رسائی کے لنکس

پاکستان میں جوہری تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ’آئی اے ای اے‘ کی طرف سے پاکستانی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے ’آئی اے ای اے‘ کے تعاون سے ایک بین الاقوامی ’نیوکلئیر سکیورٹی تربیتی کانفرنس‘ کا انعقاد کیا گیا۔

وزارت خارجہ سے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’انٹرنیشنل نیٹ ورک فار نیوکلئیر سکیورٹی ٹریننگ اینڈ سپورٹ سنٹرز‘ کا اجلاس 14 سے 18 مارچ تک اسلام آباد میں ہوا۔

بیان کے مطابق ’آئی اے ای اے‘ کے صدر دفتر سے باہر پہلی مرتبہ اس طرح کی تربیتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس کانفرنس کا مقصد جوہری تحفظ سے متعلق کی جانے والی کوششوں کو مربوط بنانا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ کانفرنس میں 29 ممالک سے 56 عہدیداروں نے شرکت کی، جن میں امریکہ اور روس کے نمائندوں کے علاوہ ’ورلڈ انسٹیٹیوٹ آف نیوکلئیر سکیورٹی‘ اور ’آئی اے ای اے‘ کے عہدیدار بھی شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ ایک ذمہ دار جوہری ملک کے طور پر پاکستان نے گزرتے وقت کے ساتھ نیوکلئیر تحفظ کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والی کانفرنس کے شرکا نے ’نیشنل انسٹیٹویٹ آف سیفٹی اینڈ سکیورٹی‘ کے علاوہ ’پاکستان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز‘ کا دورہ بھی کیا۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ’آئی اے ای اے‘ کی طرف سے پاکستانی کوششوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔

’’پاکستان کا جو ٹریک ریکارڈ ہے، جو سمجھ بوجھ ہے، جو مہارت ہے اُس کا یہ ایک اعتراف ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے۔‘‘

حکام کے مطابق حال ہی میں پاکستان نے جوہری ہتھیار رکھنے والے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر’سینٹر آف ایکسلینس فار نیوکلیئر سکیورٹی‘ کے قیام کے علاوہ جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لیے کئی دیگر اقدامات بھی کیے ہیں۔

پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ جوہری اثاثوں کی حفاظت کے معاملات پر بین الاقوامی موقف کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، اور بطور ریاست وہ اس ضمن میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لیے جامع اور مربوط اقدامات کیے گئے ہیں جن میں وزیراعظم کی زیر صدارت کمانڈ اور کنٹرول کا ادارہ بھی شامل ہے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان نے اپنے جوہری اثاثوں کی حفاظت کے لیے خصوصی فورس بھی تشکیل دی جس کے بارے میں حکام کہہ چکے ہیں کہ اُسے جدید ہتھیاروں اور آلات سے لیس کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG