رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ کے مطابق 2013 میں دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد 84 کروڑ دس لاکھ تھی جبکہ 2050 تک دنیا بھر میں یہ تعداد دو ارب ہو جائے گی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے معمر افراد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں حکومتوں اور عوام پر زور دیا کہ معمر افراد کی معاشرے میں بھرپور شمولیت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق اور وقار کے تحفظ کا بھی خیال رکھا جائے ۔

دنیا بھر میں یکم اکتوبر کو معمر افراد کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال اس کا موضوع تھا " کسی کو بھی پیچھے نہ رہنے دیا جائے، ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل جو سب کے لیے ہو"۔

بان کی مون نے کہا کہ انسانی عمر میں اضافے نے موجودہ دور میں ایک بہت بڑے تغیر کو جنم دیا ہے جس سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشی اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے معمر افراد کا کردار بہت اہم ہے تاہم انہوں نے کہا کہ" (ان کو) امتیازی سلوک کا بھی سامنا ہے۔ ہمیں ایک سرگرم، محفوظ اور صحت مند معمر افراد کی آبادی کو یقینی بنانے کے لیے اس تعصب کو ختم کرنا ہو گا"۔

پاکستان میں بھی معمر افراد کو مختلف معاشی اور طبی مسائل کا سامنا ہے۔

معمر افراد کے مسائل اور حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ہیلپ ایج انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 65 سال سے بڑی عمر کے افراد میں سے صرف 2 فیصد کو پنشن ملتی ہے اور یہ سہولت بھی صرف ان معمر افراد کو حاصل ہے جو سرکاری اداروں میں ملازمت کرتے رہے ہیں جبکہ کئی معمر افراد کے معاشی حالات بہتر کرنے کے حوالے سے کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے قانون سازی کے لیے تمام متعلقہ فریقوں ہر زور دیتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 14 دسمبر 1990 میں ہر سال یکم اکتوبر کو معمر افراد کا عالمی دن منانے کی قرارد اد منظور کی تھی۔

اقوام متحدہ کے مطابق 2013 میں دنیا بھر میں معمر افراد کی تعداد 84 کروڑ دس لاکھ تھی جبکہ 2050 تک دنیا بھر میں یہ تعداد دو ارب ہو جائے گی اور اُس وقت ہر دس معمر افراد میں سے آٹھ کا تعلق کم ترقی یافتہ ملکوں سے ہو گا۔

XS
SM
MD
LG