رسائی کے لنکس

پچھلے سال ملبوسات کی ریٹیل شاپ ٹومی ہل فیگر، ڈی کے این وائی اور مارکس اینڈ اسپینسر نے بھی مسلمان خواتین کے لیے ملبوسات کی وسیع رینج متعارف کرائی تھی۔

دنیا بھر میں رمضان المبارک کے مہینے کا آغاز ہو گیا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں برطانیہ کی بڑی بڑی سپر مارکیٹیں اپنے صارفین کے لیے قیمتیں غیر معمولی طور پر کم رکھتی ہیں۔

تاہم اب یہ رجحان صرف سپر مارکیٹ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی فیشن برانڈز نے بھی اسلامی فیشن انڈسٹری میں قدم جما لیے ہیں۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہسپانوی فیشن کمپنی مینگو نے رمضان کلیکشن کے نام سے اس سال بھی مسلمان خواتین کے لیے ملبوسات کی خصوصی رینج متعارف کرائی ہے۔

پچھلے سال ملبوسات کی ریٹیل شاپ ٹومی ہل فیگر، ڈی کے این وائی اور مارکس اینڈ اسپینسر نے بھی مسلمان خواتین کے لیے ملبوسات کی وسیع رینج متعارف کرائی تھی۔

اس سال فیشن ہاؤس مینگو کی طرف سے پیش کئے جانے والے ملبوسات خاص طور پر رمضان کے لیے تیار کردہ ہیں، جس میں مینگو نے عرب خواتین کے روایتی اسٹائل عبایا اور چادر کے فیشن کو تبدیل کرتے ہوئے لانگ گاؤن اور تنگ پاجامے کے ساتھ لمبی قمیض پر مشتمل ملبوسات تیار کئے ہیں۔

کمپنی کی پریس ریلیز کے مطابق نیا کلیکشن رمضان المبارک کے دوران مسلمان خواتین کی روزمرہ کے کاموں اور تفریح کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

رمضان کےخصوصی ملبوسات میں جدید تراش خراش والے کافتان، جیکٹس، لمبی شرٹس پاجامے اور ٹرٹل نیک شرٹس شامل ہیں جبکہ تقریبات کےحوالے سے فینسی میکسی اور پرنٹڈ گاؤن شامل ہیں۔

مینگو فیشن کمپنی کے 2,200 فیشن اسٹور ہیں جو دنیا کے 109 ممالک میں موجود ہیں جبکہ سعودی عرب، قطر اور عرب امارات میں بھی مینگو فیشن ہاؤس کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

اگرچہ مسلمان آبادی کی اکثریت جنوبی مشرقی ایشیا میں آباد ہے لیکن مینگو کے خاص کلیکشن کے ساتھ عرب اور مشرق وسطیٰ کی خواتین کی توجہ حاصل کی گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق ہر سال موسم گرما میں تقریباً پچاس ہزار عرب سیاح برطانیہ، خاص طور پر لندن کا رخ کرتے ہیں اور اپنے مجموعی اخراجات کا ایک بڑا حصہ خریداری پر خرچ کرتے ہیں۔

ورلڈ پلے نامی کمپنی کے 2014ء کے ایک جائزے کے مطابق موسم گرما کے دوران ایک عام خلیجی سیاح ایک بل میں 152 پاؤنڈ خرچ کرتا ہے۔ اسی طرح ایک قطری سیاح کا اوسط بل ایک خریداری کے لیے 288 پاؤنڈ بنتا ہے جبکہ ان کے مقابلے میں ایک یورپی سیاح خریداری پر 49 پاؤنڈ خرچ کرتا ہے۔

اس حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ کے ہائی اسٹریٹ فیشن میں اب واضح طور پر تبدیلی نظر آتی ہے، جہاں خاص طور پر مسلمان خواتین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے لمبے اور ڈھیلے ڈھالے ڈریس کو فیشن ملبوسات کے طور پر لانچ کیا جاتا ہے۔

اس سال کے شروع میں اطالوی فیشن کمپنی ڈولچ اینڈ گیبانا کی طرف سے بھی عبایا، حجاب اور اسکارف پر مشتمل موسم بہار کا ایک منفرد کلیکشن لانچ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG