رسائی کے لنکس

اقوام متحدہ اور دیگر امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کے امدادی قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس سے امدادی سامان کی فراہمی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

شام میں پانچ سالہ جنگ منگل کو 17 ملکی بین الاقوامی سریئن اسپورٹ گروپ کے سفارتکار کی توجہ کا مرکز ہو گی جو ویانا میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں۔

اجلاس میں شام سے متعلق تعطل کے شکار سیاسی مذاکرات اور جنگ بندی کے نفاذ میں درپیش مشکلات پر بھی بات کی جائے گی۔

فروری کے اواخر میں شام میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد سے ماضی کی نسبت تشدد کے واقعات میں کمی تو دیکھی گئی لیکن اس پر عملدرآمد کی رفتار خاصی سست رہی ہے۔

امریکہ اور روس یہاں تنازع کے فریقین پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی اور امن بات چیت کے لیے انھیں آمادہ کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں لیکن اس ضمن میں بھی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

جنگ بندی کا ایک مقصد انتہائی ضرورت مند شامیوں تک انسانی ہمدری کی بنیاد پر امداد پہنچانا بھی تھا خاص طور پر ایسے افراد تک جو باغی یا سرکاری فورسز کے محاصرے والے علاقوں میں موجود ہیں۔

لیکن اقوام متحدہ اور دیگر امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کے امدادی قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے جس سے امدادی سامان کی فراہمی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

2012ء سے اقوام متحدہ شام میں تنازع کے سیاسی حل کی کوششیں کرتی آ رہی ہے۔

سریئن اسپورٹ گروپ کے اجلاسوں میں ایک اہم نقطہ شام کے صدر بشار الاسد کا سیاسی مستقبل بھی رہا ہے جس کے بارے میں امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کو کہنا ہے کہ اس ملک کے مستقبل میں بشار الاسد کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے جبکہ شام کا اتحادی روس اس تجویز سے متفق نہیں۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی اسٹیفاں ڈی مستورا نے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ منگل کو ہونے والے اجلاس کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے شامی حکومت اور حزب مخالف کے درمیان ممکنہ بات چیت کے اگلے دور کی تاریخ طے کریں گے۔

XS
SM
MD
LG