رسائی کے لنکس

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کے تحفظ کا مطالبہ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ہیومین رائٹس کمیش آف پاکستان یعنی ’ایچ آر سی پی‘ نے ایک بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین کارکنان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، انہیں امتیازی سلوک اور حملوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

خواتین کے حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جہاں حکومت کی طرف سے زندگی کے ہر شعبے میںخواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، وہیں حقوق نسواں کے سرگرم کارکنوں کی طرف سے حکومت پر زور دیا گیا کہ خواتین کو حقوق کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اُن کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

ہیومین رائٹس کمیش آف پاکستان یعنی ’ایچ آر سی پی‘ نے ایک بیان میں حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین کارکنان کے کردار کو تسلیم کرتے ہوئے، انہیں امتیازی سلوک اور حملوں سے تحفظ فراہم کیا جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی خواتین کو بھی جنس سے متعلقہ تشدد یا دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’ایچ آر سی پی‘ کے مطابق پاکستان میں ہرسال انسانی حقوق کے متعدد کارکنوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔

حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ انسانی حقوق کی خواتین کارکنان کو ایک ایسا محفوظ اور مساوی ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی ذمہ داریاں بلاخوف انجام دے سکیں۔

ہیومین رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سابق چیئرپرسن اور معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں خواتین نے اپنی جدوجہد سے اپنے لیے حقوق حاصل کیے ہیں۔

’’خواتین ہی نے اپنے لیے یہ بہتری حاصل کی ہے ۔۔۔ میں نہیں کہتی (کہ خواتین کو) پورے حقوق ملے ہیں،بہتر حقوق ملے ہیں۔ جہاں تک عورتوں کی جدوجہد اور ان کو مساوی حقوق ملنے کا تعلق ہے تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی ہے۔‘‘

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک مذہبی شخصیت اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر اشرفی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ مذہبی شخصیات کو بھی خواتین کے حقوق کی آواز بلند کرنے والوں کا ساتھ دینا چاہیئے۔

’’میں سمجھتا ہوں اس وقت پاکستان میں اس سب سے زیادہ ضرورت لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ دینے اور جہیز کی رسم کے خاتمے کی ہے۔۔۔ آج کے دن ہمیں اس بارے میں نئے عزم کا اظہار کرنا چاہیئے۔‘‘

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے اپنے پیغام حکومت کے روایتی موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین میں خواتین کو مساوی حیثیت حاصل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حکومت زندگی کی ہر شعبے میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور خواتین سے متعلق انسانی حقوق کے اہم شعبوں میں ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمے عزم کو دہرایا۔

XS
SM
MD
LG