رسائی کے لنکس

کیا انٹرنیٹ انگریزی زبان کو تبدیل کر رہا ہے؟


web

web


1994ء سے جب سے کمپیوٹر کی اسکرینوں پر پہلا ویب براؤزر سامنے آیا ہے، انٹر نیٹ نے عالمی سطح پر ابلاغ کے انداز کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ فوری طور پر پیغامات اور ای میل تک رسائی، تبصرے یا رائے کو وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچانے کی اہلیت کے باعث لوگوں کے باہمی رابطوں کے طریقے میں انقلابی تبدیلی آ چکی ہے۔ اس کا اثر زبان اور تحریر پر بھی ہوا ہے لیکن لوگ ابھی تک ان تبدیلیوں کے دائرہ کار اور اس بارے میں بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ تبدیلیاں بہتری کے لیے ہیں یا نہیں۔

کولمبیا یونیورسٹی میں انگریزی اور تقابلی ادب کی پروفیسر ایلانور جانسن زبان کے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کی وجہ بڑے پیمانے پر الیکٹرانک ذریعہ ابلاغ کو قرار دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چیٹنگ اور ایس ایم ایس کی وجہ سے طالب علم اب اسپیلنگ اور گرائمر کی بڑی بڑی غلطیوں کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول سمجھنے لگے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گذشتہ کئی برسوں سے ان کے طالب علموں نے اپنی باقاعدہ اسائنمنٹس میں غیر رسمی انگریزی الفاظ کا استعمال زیادہ کر دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ یونیورسٹی کی سطح کے تحقیقی مقالوں میں اب عام بول چال کے ایسے غیر رسمی الفاظ مثلاً، یو نو، اور گائے(you know اور guy) وغیرہ استعمال ہونا شروع ہو گئے ہیں جو لگ بھگ ایک عشرہ قبل بالکل ناپید تھے۔۔وہ اس تبدیلی کو فوری اور غیر رسمی ابلاغ سے منسوب کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اب جب کہ طالب علموں نے صرف ایسے الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیا ہے جو سننے میں درست لگتے ہیں لیکن جن کا مطلب وہ نہیں ہوتا جو وہ کہنا چاہتے ہیں اس لیے اب وہ زیادہ غلط الفاظ استعمال کرنے لگے ہیں۔

جانسن کہتی ہیں کہ اس طرح کے غلط الفاظ کا انتخاب اب اس قدر زیادہ ہونے لگا ہے کہ اب انہوں نے اپنی کلاس کا ایک سیکشن صرف اسی مسئلے کے لیے مختص کر دیا ہے۔

ڈیوڈ کرسٹل برطانوی ماہر لسانیات اور ایک سو سے زیادہ کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی کتاب Language and the Internet بھی شامل ہے۔ کرسٹل کا کہنا ہے کہ انٹر نیٹ کی کثیر جہتی نوعیت کی وجہ سے اس کے اثرات کا کوئی جامع تجزیہ کرنا اور انہیں اپ ٹوڈیٹ رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ٹیکنالوجی میں تبدیلی کی وجہ سے انہیں 2006ء میں اس کتاب پر نظر ثانی کرنا پڑی تھی۔تاہم ان کا خیال ہے کہ زبان پر انٹرنیٹ کے اثرات ابھی تک واجبی ہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ جب ہم زبان پر انٹر نیٹ کے مخصوص اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا انٹر نیٹ کے نتیجے میں انگریزی زبان کوئی مختلف زبان بن گئی ہے؟ تو اس کا جواب ہے، نہیں۔

کرسٹل کا کہنا ہے کہ انٹر نیٹ کی وجہ سے ہونے والی لسانی تبدیلیاں ڈکشنری کی موجودہ تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ ہم اب الفاظ کی شکل میں رد و بدل نہیں بلکہ زبان میں لفظوں کا اضافہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

کرسٹل انگلینڈ کی کوینٹری یونیورسٹی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کے متعدد مطالعاتی جائزوں کا حوالہ دیتے ہیں جو اسی خیال کی تائید کرتے ہیں۔

زبان پر انٹر نیٹ کا سب سے بڑا اثر یہ ہوا ہے کہ اس میں اظہار کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے، اور اس میں ابلاغ کی جہت کا ایک نیا انداز سامنے آیا ہے جو ماضی میں اپنا وجود نہیں رکھتا تھا۔

انٹرنیٹ کی آن لائن ڈکشنری Netlingo اور ٹیکسٹ میسیجنگ کی اصلاحات کی بانی ایرین جینسن کا بھی یہی کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی نے موجودہ زبان کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا ہے بلکہ اس کے ذخیرہٴ الفاظ میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔جینسن انٹرنیٹ انڈسٹری میں 1994ء سے منسلک ہیں اور انہیں کرسٹل کی اس بات سے اتفاق ہے کہ زبان کے ابلاغ کے طریقوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر یہ اظہار کی آزادی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماہرین تعلیم اس بات سے پریشان دکھائی دیتے ہیں کہ طالب علم اپنی نصابی کام کرتے ہوئے ہجوں اور گرائمر میں نئی قسم کی غلطیاں کر رہے ہیں تاہم ان کا خیال ہے کہ اظہار کے طریقوں میں وسعت آنے سے طالب علموں کو فائدہ بھی پہنچا ہے۔

اگرچہ انٹرنیٹ پر زبان کے استعمال میں اگلے چند برس میں تیزی سے تبدیلی آسکتی ہے، لیکن جانسن، کرسٹل اور جینسن کا خیال ہے کہ ماہرین تعلیم کو یہ بات یقینی بنانی چاہیئے کہ طالب علم زبان کے استعمال اور صرف و نحو کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔

XS
SM
MD
LG