رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ کمپنیوں کا عالمی امور میں کردار


مصر میں گوگل کے ایگزیکٹو رہائی کے بعد استقبال کرنے والوں کے ہمراہ

مصر میں گوگل کے ایگزیکٹو رہائی کے بعد استقبال کرنے والوں کے ہمراہ

گوگل جسے انٹرنیٹ پر سرچ کے لیئے سب ہی استعمال کرتے ہیں، اور ٹوئٹر اور فیس بک جیسی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس، دنیا میں سیاسی تبدیلیوں میں اہم رول ادا کر رہی ہیں۔ مصر اور تیونس میں مطلق العنان لیڈروں کا تختہ الٹنے میں ان انٹرنیٹ کمپنیوں کی وجہ سے سیاسی کارکنوں کو بڑی مدد ملی۔ انٹرنیٹ کی بدولت اب حکومتوں کے لیئے ایسی پالیسیاں اختیار کرنا مشکل ہو گیا ہے جن سے آزادیٔ تقریر میں خلل پڑتا ہو۔

12 دن تک سیکورٹی فورسز کی قید میں رہنے کے بعد جب اس مہینے کے شروع میں ، مصر میں گوگل کے ایگزیکٹو Wael Ghonim باہر آئے، تو تحریر اسکوائر میں حکومت کی مخالفت میں احتجاج کرنے والوں نے ہیرو کی طرح ان کا خیر مقدم کیا۔

Ghonim مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں گوگل کی مارکیٹنگ کے انچارج ہیں۔ بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہونے سے پہلے ، انھوں نے فیس بک کا ایک صفحہ لانچ کیا تھا ۔ اس صفحے سے لوگوں کو سڑکوں پر لانے میں مدد ملی اور پھر یہ مظاہرے اتنے بڑ ے عوامی احتجاج میں تبدیل ہو گئے کہ صدر حسنی مبارک کو استعفی ٰ دینا پڑا اور یو ں ان کا تیس سالہ دورِ حکمرانی ختم ہو گیا۔

مارکس میسنر ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی میں صحافت کا مضمون پڑھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ کمپنیاں عالمی امور میں روز بروز زیادہ اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔’’میرے خیال میں یہ کمپنیاں زیادہ فعال ہوتی جا رہی ہیں لیکن ہر کمپنی کا رول ایک جیسا نہیں ہے ۔ فیس بک نے اب تک خود کوئی خاص سرگرمی نہیں دکھائی ہے، لیکن گوگل اور ٹوئٹر مصر میں نسبتاً زیادہ سرگرم تھیں۔‘‘

میسنر کہتے ہیں کہ 2009 میں جب ایران میں احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہوا، تو ٹوئٹر نے اپنے کمپیوٹر نیٹ ورک کی مرمت کا کام ملتوی کر دیا تا کہ احتجاج کرنے والے جو لوگ ٹوئٹر استعمال کر رہے ہیں، وہ اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ حال ہی میں ، جب مصر میں حکام نے انٹرنیٹ بند کر دیا، تو گوگل، ٹوئٹر اورسے ناؤ کے ملازمین نے مل جل کر ایک طریقہ معلوم کیا تا کہ احتجاج کرنے والے انٹرنیٹ پر پابندی کے باوجود اپنے پیغامات بھیج سکیں۔

فیس بک کے ارکان کی تعداد نصف ارب تک پہنچ چکی ہے، ٹوئٹر کے بڑھنے کی سالانہ رفتار 100 سے 200 فیصد تک ہے ، اور ویب پر گوگل اور یو ٹیوب بھی موجود ہیں۔

میسنر کہتے ہیں’’ان اداروں کا رول بہت اہم ہے ۔ جب ہم بڑی بڑی میڈیا کارپوریشنوں کی بات کرتے ہیں تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ کمپنیاں کتنی بڑی ہو گئی ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ مستقبل میں یہ کمپنیاں خود کس حد تک سیاسی موقف اختیار کرتی ہیں۔‘‘

فوربز میگزین کے سائبر سیکورٹی کے کالم نگار جیفری کار کہتے ہیں کہ گوگل اپنے ملازمین کو جو آزادی دیتا ہے، اس کی بدولت یہ لوگ مصر کی تحریک میں اہم کر دار ادا کرسکے ہیں۔’’گوگل ایسی کمپنی ہے جو اپنے ملازمین کا بڑا خیال رکھتی ہے ۔ میرے خیال میں وہ ہر ہفتے انہیں اپنے وقت کا 20 فیصد حصہ اپنے پراجیکٹس پر کام کرنے کے لیئے دیتی ہے، اور میرا خیال ہے کہ مصر میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ضروری نہیں کہ کمپنی نے اس سلسلے میں کوئی باقاعدہ سرکاری فیصلہ کیا ہو۔‘‘

کار کہتے ہیں کہ گوگل کے ملازمین نے مصر میں جو کچھ کیا وہ ا ن کا اپنا کام تھا اور اس کے لیئے وہ تعریف کے مستحق ہیں۔’’میں سمجھتا ہوں کہ انسانی ہمدردی کی یہ کوششیں انھوں نے شروع کی تھیں۔ یہ کمپنی کا کام نہیں تھا، بلکہ ملازمین کا تھا۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ گوگل اور دوسری انٹرنیٹ کمپنیاں بہر حال کاروباری ادارے ہیں۔ وہ کارپوریشنیں ہیں جن کی اولین ذمہ داری اپنے شیئر ہولڈرز کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے ۔

جیلیان یورک ہارورڈ یونیورسٹی کے برکمین سنٹر فار انٹرنیٹ اور سوسائٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ بہت سے انٹرنیٹ کمپنیوں نے اپنی تشکیل کے وقت یہ نہیں سوچا تھا کہ انہیں سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کے لیئے استعمال کیا جائے گا۔ ’’کسی نہ کسی مرحلے پر ہر کمپنی کو یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کیا وہ ان معاملات میں کوئی مضبوط موقف اختیار کرے گی۔ ہم نے گوگل کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ گذشتہ سال اس نے خود کو چین سے نکال لیا، اور حال ہی میں انھوں نے ایک انٹرنیٹ فریڈم کانفرنس منعقد کی ۔ گوگل نے اپنے لیئے اس رول کو قبول کر لیا ہے۔ فیس بک نے خود کو کسی حد تک دور رکھا ہے، اور میں کہوں گی کہ ٹوئٹر ان دونوں کے درمیان میں کہیں ہے۔‘‘

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک اہم چیز یہ ہے کہ گوگل نے اور دوسری ہائی ٹیک کمپنیوں نے اپنے ان ملازمین کو بر طرف نہیں کیا جنھوں نے Speak2Tweet سسٹم تیار کیا تھا۔ اس سسٹم کے ذریعے ٹوئٹر کو ٹیلی فون سے جوڑا جا سکتا تھا، اور مصر میں احتجاج کرنے والے، انٹرنیٹ بند کیئے جانے کے باوجود رابطہ قائم رکھ سکتے تھے۔انٹرنیٹ کی صنعت کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس پالیسی سے آزادیٔ تقریر کے حق سے ان کمپنیوں کی واضح وابستگی کا اظہار ہوتا ہے ۔

XS
SM
MD
LG