رسائی کے لنکس

انٹرپول نے اپنے 190 رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کریں کہ آیا جیلوں پر حملے مربوط کارروائیاں تھی یا نہیں۔ بیان میں فرار ہونے والے قیدیوں کو بھی تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

عالمی پولیس ایجنسی ’انٹرپول‘ نے لیبیا، عراق اور پاکستان میں جیلوں پر حملوں کے بعد اپنے رکن ممالک سے اس ضمن میں نگرانی سخت کرنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔ ایجنسی یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا ان واقعات میں کوئی مماثلت تو نہیں۔

فرانس کے شہر لیون سے جاری ہونے والے بیان میں ان میں سے بعض واقعات میں القاعدہ کے ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ انٹرپول نے اپنے 190 رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کریں کہ آیا جیلوں پر حملے مربوط کارروائیاں تھی یا نہیں۔ بیان میں فرار ہونے والے قیدیوں کو بھی تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

جمعہ کو امریکہ نے بھی القاعدہ کی طرف سے اتوار کو دنیا میں خصوصاً مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں اپنے متعدد سفارت اور قونصل خانوں پر حملوں کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے امریکی شہریوں کے لیے رواں ماہ سفری انتباہ جاری کیا تھا۔

برطانیہ اور فرانس نے بھی اتوار کو یمن میں اپنے اپنے سفارتخانے دو دن کے لیے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ رمضان کے آخری دنوں اور عید کے موقع پر سلامتی سے متعلق ہمارے تحفظات ہیں۔‘‘

28 جولائی کو پاکستان کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں طالبان شدت پسندوں نے ایک جیل پر حملہ کرکے وہاں دو سو سے زائد قیدیوں کو فرار کرا لیا تھا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ایسے ہی ایک واقعے میں عراق کی ابوغریب جیل سے پانچ سو سے زائد قیدی فرار ہوئے جن میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ارکان بھی شامل تھے۔

اسی دوران لیبیا میں بن غازی کی ایک جیل میں بھی ہنگامہ ہوا اور یہاں سے سینکڑوں قیدی فرار ہوگئے تھے۔
XS
SM
MD
LG