رسائی کے لنکس

سیدہ عفراء بخاری کے مطابق وہ اپنے افسانوں کے تمام کرداروں سے مل چکی ہیں جو نہتے اور کمزور ہیں مگر اس کے باوجود انہیں ان سے خوف آتا ہے کہ ۔۔۔۔

’امرتسر میں رہ جانے والی بچپن کی احمقانہ یادیں، پیچ دار گلیاں، کوچے بازار، سٹیشن، ریل کی پٹڑی، کوڑا کرکٹ اٹھانے والی چھوٹے سے انجن کی ٹرین، جو چیونٹی کی چال چلتی تھی، پراسرار شمشان گھاٹ کے اندر سے گھورتا ہو پجاری جو ہماری تانک جھانک کو پسند نہیں کرتا تھا۔ ایسی اور بہت سی بکھری ماند پڑتی یادیں‘۔ یہ تمام یادیں ہیں پاکستان کی افسانہ نگار سیدہ عفراء بخاری کی، جو تقسیم ِہند کے وقت صرف سات برس کی تھیں۔ جب ہم نے ان سے یہ سوال پوچھا کہ کیا امرتسر انہیں یاد آتا ہے اور وہ وہاں دوبارہ جانا چاہیں گی تو اُن کا یہ جواب بھی کسی افسانے سے کم نہیں تھا۔

چار افسانوی مجموعے ’فاصلے‘، ’نجات‘، ’ریت میں پاؤں‘ اور ’آنکھ اور اندھیرا‘ کی خالق عفراء بخاری سے جب ہم نے پوچھا کہ انہیں لکھنے کا خیال کیسے آیا تو وہ پھر اپنے ماضی کی گہرائیوں میں جا پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم ِہند کا واقعہ آج بھی انہیں خوفزدہ کر دیتا ہے جیسے ان کا کچھ کھو گیا ہو۔ اس عمر میں اس حادثے کا صحیح ادراک تو انہیں نہیں ہوا مگر وہ کہتی ہیں کہ ان کے اندر غم تھا دکھ تھا اور یہی المیہ گویا انہیں چھوٹی سکرین سے بڑے کینوس کی جانب لے گیا اور انہوں نے لکھنا شروع کیا۔ ان کے افسانوں کا موضوع مشترک انسانی زندگی کا جذباتی المیہ بن گیا۔

جب ہم نے ان سے پوچھا کہ آسکر وائلڈ نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا ک ’آل فارمز آف آرٹ آر یوز لیس‘ اور کیا وہ بھی ایسا ہی سمجھتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ آرٹ ہر شکل میں گہرے اثرات رکھتا ہے، المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھا ادب پڑھنے والوں کا حلقہ بہت تنگ ہے، فن کتابوں کے انبار میں دبا رہتا ہے۔ وجہ کوئی بھی ہو ایک اچھا فنکار اپنے زمانے میں عموماً بے قدری کا شکار رہتا ہے اور اسی مایوسی میں وہ اپنے فن پاروں کو ٹھوکر مار دیتا ہے اور شاید آسکر وائلڈ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہوگا۔

تقسیم ہند کے پچاس برس بعد سیدہ عفراء بخاری نے دو حصوں پر مشتمل ایک افسانہ ’میان پترو‘ لکھا۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ انہیں آدھی صدی گزر جانے کے بعد یہ کہانی لکھنے کا خیال کیوں آیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب ایک المناک، وحشیانہ خوں ریزی کے بعد آبادی کی منتقلی دونوں اطراف میں مکمل ہوئی تو ہم نے پاکستان کو ایک گوشہ عافیت سمجھا لیکن حادثہ یہ ہوا کہ 50 برس کے اندر اندر ملک میں نسلی، لاثانی اور نہ جانے کن کن باتوں پر فسادات اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر وہی ماردھاڑ، خون خرابہ، عزتوں کی نیلامی، خوف و حراس، بے بسی بے کسی، دل دہلا دینے والا خوف۔۔۔ پاکستان میں ایسے ایسے دل دہلا دینے والے دہشت گردی کے واقعات ہوئے جنہوں نے 1947ء میں ہونے والے فسادات کے زخم تازہ کر دیئے اور اس کہانی کو اب تحریر کرنے کی وجہ بھی یہی بنی آپ اسے کل اور آج کا تقابلی جائزہ بھی کہہ سکتے ہیں۔
عفراء بخاری اپنے بیٹے کے ساتھ

عفراء بخاری اپنے بیٹے کے ساتھ


سیدہ عفراء بخاری کے لیے زندگی پُراسرار اور بھید بھری ہے جبکہ محبت فاتح عالم۔ ان کے مطابق وہ اپنے افسانوں کے تمام کرداروں سے مل چکی ہیں جو نہتے اور کمزور ہیں مگر اس کے باوجود انہیں ان سے خوف آتا ہے کہ کہیں کسی جُھکے کندھے پر گندگی کا تھیلا اٹھانے والا جاگ نہ جائے، کہیں ننگے پاؤں سڑک کنارے چلنے والا اخبار فروش لڑکا بیدار نہ ہو جائے، کہیں غلیظ بھکارن کی گود میں چھوٹا ناسمجھ بچہ جو اپنی فریادی نظروں سے آپ کی طرف دیکھتا ہے، ایسی صدا نہ دے ڈالے جو آسمان کی بلندی کو ہلا دے۔۔۔ پھر کیا ہوگا؟

موجودہ ادب کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ 40 سے لے کر 70 کی دہائی تک پاکستان میں اچھا ادب پیدا ہوا مگر اب وہ چیز باقی نہیں رہی، موجودہ دور میں افسانوی ادب انحطاط پذیرہے۔

100 سے زائد افسانوں کی خالق سیدہ عفراء بخاری کی کہانیاں بیانیہ کے ساتھ ساتھ علامتی اصلوب کی بھی حامل ہیں انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے انسانی نفسیات کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے، چاہے وہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت۔ ان کے افسانوں کا پانچواں مجموعہ ’سنگ سیاہ‘ زیر ِطبع ہے جبکہ آجکل وہ اپنے ناول ’پہچان‘ پر بھی کام کر رہی ہیں۔

سیدہ عفراء بخاری سے کی گئی گفتگو سننے کے لئیے نیچے دیے گئے آڈیو لنک پر کلک کیجئیے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG