رسائی کے لنکس

سید جلال محمود شاہ کہتے ہیں کہ،’ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر سپریم کورٹ سے مسلسل جو غلطی ہوتی رہی ہے وہ یہی ہے کہ وہ کہتی ہے کہ 15 دن میں الیکشن کراوٴ۔ ایک مہینے میں الیکشن کراوٴ۔ لیکن، حلقہ بندیوں کو وہ نظرانداز کردیتی ہے‘

صوبہٴ سندھ کی سیاست میں پچھلے کچھ ہفتوں سے کچھ نئی اصطلاحیں سننے میں آرہی ہیں۔ مثلاً، ’اردو اسپیکنگ سندھی‘، اور ’سندھ ون‘ اور ’سندھ ٹو‘۔ یہ تینوں اصطلاحات اس وقت اور بھی زیادہ سننے میں آتی ہیں جب صوبے کی تقسیم کی بات زیر بحث ہو۔

ان اصطلاحات کو شروع کرنے کا سہرا سندھ کی ایک بااثر جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے سر ہے۔ ان کی جانب سے دی گئی ان اصطلاحات پر سندھ کے قوم پرست رہنماوٴں نے گو کہ اچھے تاثرات کا اظہار نہیں کیا، لیکن اس حوالے سے ان کا اپنے موٴقف ہے۔

’سندھ یونائٹیڈ پارٹی‘ کے رہنما، جلال محمود شاہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے سے خصوصی انٹرویو کے دوران کہا، ’الطاف حسین نے یہ بیان دے کر ہمارے اردو اسپیکنگ سندھی بھائیوں کے لئے بڑی مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس بیان سے ان کوششوں کو نقصان پہنچے گا جِن کے ذریعے اردو اسپیکنگ سندھی اور سندھیوں کے درمیان بھائی چارے کے ساتھ ایک صوبے میں رہنے کا سلسلہ چل نکلا تھا۔ اس بیان کے ذریعے ایک مرتبہ پھر نفاق میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان خود ہمارے اردو اسپیکنگ سندھی بھائیوں کو ہوگا۔‘

جلال محمود شاہ نے اپنے موٴقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا: ’اگر سندھ میں، خدانخواستہ، سول وار چھڑی تو سب سے زیادہ نقصان اردو اسپیکنگ کا ہوگا، کیوں کہ اردو اسپیکنگ صرف کراچی میں ہی نہیں رہتے پورے سندھ میں آباد ہیں۔ اگر نوجوانوں کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالی گئیں تو اس کا نتیجہ نفرت میں نکلے گا، جبکہ محبت کا جواب محبت ہوتا ہے۔‘

جلال شاہ سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ لہذا، آپ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سندھ کی سیاست کا کیا رخ دیکھ رہے ہیں، تو ان کا کہنا تھا: ’حکومت ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ سندھ پیپلز پارٹی کی جاگیر نہیں ہے۔ سندھ میں اب وہ دن نہیں رہے کہ بھٹو یا صرف بے نظیر کے نام پر ہی ووٹ ملیں۔ دور بدل چکا ہے۔ ہم تو اس نظریئے کو ہی نہیں مانتے۔ بلدیاتی الیکشن گراس روٹ لیول کے انتخابات ہیں۔ ہم ہر جگہ سے اپنے نمائندوں اور کارکنوں کو کو کھڑا کریں گے۔ سندھ یونائٹیڈ پارٹی نے ہر ضلع کے لوگوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں بات کریں۔ دوسری پارٹیوں سے ہماری سیٹ ایڈجسمنٹ بھی ہوگی۔‘

ایک سوال کے جواب میں جلال شاہ کا کہنا تھاکہ، ’ہمارا پیپلز پارٹی سے زیادہ تر جگہوں پر اختلاف ہے۔ لیکن، ایم کیوایم کے معاملے میں کہیں اختلاف تو کہیں رضامندی والی صورتحال ہے۔‘

اس سوال پر کپ آپ کے خیال میں اب سندھ میں بلدیاتی انتخابات کب ہونے چاہئیں، اُنھوں نے کہا: ’ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی طور پر سپریم کورٹ سے مسلسل جو غلطی ہوتی رہی ہے وہ یہی ہے کہ وہ کہتی ہے کہ 15 دن میں الیکشن کراوٴ۔ ایک مہینے میں الیکشن کراوٴ۔ لیکن، حلقہ بندیوں کو وہ نظرانداز کردیتی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ پہلے حلقہ بندیاں درست کی جائیں۔ اس کے بعد، انتخابات ہوں تو اچھا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے قانون سازی ہو۔ یہ انتظامیہ کے ماتحت نہیں ہونے چاہیئیں‘۔

سوال: فرض کریں اگر بلدیاتی انتخابات میں بھی پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی تو قوم پرست جماعتیں کس طرف دیکھیں گی یا ان کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

جواب: ’حلقہ بندیاں درست نہیں ہوئیں۔ یہی تو میں کہہ رہا ہوں۔ غلط حلقہ بندیوں کے سبب وہ لوگ زور دکھا رہے ہیں۔ اگر آزادنہ انتخابات ہوئے تو پی پی الیکشن میں کھڑی بھی نہیں ہوسکے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آدھا سندھ اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اگر دھاندلی والی یہی حلقہ بندیاں رہیں اور انہی پر انتخابات ہوئے تو عوام کا مینڈیٹ ایک مرتبہ پھر چوری کرلیا جائے گا۔۔۔کیوں کہ حکومت ان کی ہوگی، وسائل اور انتظامیہ بھی ان کی ہوگی۔‘

ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا، ’پاور ملنے کی نشاندہی اکثر اسٹیبلشمنٹ کر دیتی ہے۔ جس طرف اشارہ ہوتا ہے لوگ اسی طرف بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ آج کے لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں رہا کہ ان کے ووٹ کی طاقت سے تبدیلی آئے گی۔ اب تو ووٹ کے ذریعے ہائی جیکنگ ہورہی ہے۔ کراچی میں دیکھیں، حیدرآباداور لاڑکانہ میں دیکھیں۔ ہرجگہ پر ووٹ ہائی جیک ہوتے ہیں۔ ایک مخصوص طریقے سے طاقتور لوگ کرپشن کے پیسے کے زور پر الیکشن کو ہائی جیک کرلیتے ہیں لیکن ان سب حالات کے باوجود، سندھ یونائیٹڈ پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر صورت میں ہماری جو بھی قوت ہوگی اسے یکجا کرکے بلدیاتی انتخاب لڑیں گے۔‘

پیپلز پارٹی میں آصف علی زردای کے قیادت میں آنے سے اختلاف پر جلال شاہ کا کہنا تھا: ’دیکھیں نا۔ ہمارا تو ۔۔ بنیادی اختلاف ہی پیپلز پارٹی کے نقطہ نظر اور سیاسی سوچ سے ہے۔ زرداری سے کوئی ذاتی ضد نہیں۔ وہ سندھ کو سمجھتے ہیں کہ یہ صرف پیپلز پارٹی کی جاگیر ہے اور اس جاگیر پر ہمارا قبضہ لازمی ہے۔ اس نقطہ نظر اور اس سوچ کو ہم نہیں مانتے۔ اس لئے ہم ان کے مخالف کھڑے بھی ہوتے ہیں، مقابلے میں الیکشن بھی لڑتے ہیں۔۔۔سب کچھ کرتے ہیں‘۔

سوال: قوم پرست پارٹیاں لیاری میں جاکر کام کیوں نہیں کرتیں، حالانکہ وہاں ان کا ووٹ بینک اچھی خاصی تعداد میں موجود ہے؟

جواب: ’قوم پرست جماعتوں کو اقتدار ملا تو ضرور کام کریں گی۔لیاری ایسی جگہ ہے جہاں ساری دنیا کی این جی اوز بھی ملکر ایک حکومت کے برابر کام نہیں کرسکتیں۔ اگر حکومت پیپلز پارٹی کی ہو، اختیار بھی پی پی کے پاس ہو، پولیس اور دوسرے ادارے بھی اسی کے اثر و رسوخ میں ہوں تو، دوسرا کیا کرسکتا ہے۔۔۔؟۔۔۔یہی تو ہائی جیکنگ ہے۔‘

سوال: سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی نے 9 فروری کو ’یوم یکجہتی سندھ‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے دوسری پارٹیوں کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔ آپ کی جماعت اس میں شرکت کرے گی؟

جواب: ’یہ ان کی اپنی پارٹی کا فیصلہ ہے۔ اس میں ہماری رائے شامل نہیں۔ اس لئے ہم اس میں حصہ بھی نہیں لیں گے۔ دوسری پارٹیاں اگر یہ دن منانے میں ان کا ساتھ دیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہوگا۔‘
XS
SM
MD
LG