رسائی کے لنکس

جیمز ڈابنز نے کہا ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے نیٹو کی سپلائی لائن جاری رکھنے کے لیے ایک معاہدہ پہلے ہی سے موجود ہے، جس پر عمل درآمد کیا جائے گا

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی مندوب، جیمز ڈابنز نے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کی طرف سے نیٹو کی سپلائی لائن روکنے کی کوشش کے باوجود، امریکہ کو توقع ہے کہ پاکستان کی حکومت نیٹو کے سازو سامان کی افغانستان تک سپلائی کو یقینی بنائے گی۔

اُنھوں نے اس بات کا اظہار پیر کے روز ’وائس آف امریکہ‘ سے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔

جیمز ڈابنز نے کہا ہے کہ امریکہ کا پاکستان سے نیٹو کی سپلائی لائن جاری رکھنے کے لیے ایک معاہدہ پہلے ہی سے موجود ہے، اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اُنھوں نے ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کے بارے میں کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے ، کہا کہ اس سلسلہ میں امریکی پالیسی اب بھی وہی ہے جس کا اظہار وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان میں کیا تھا۔

وزیر خارجہ کیری نے کہا تھا کہ امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور ڈرون حملوں کا جلد ہی خاتمہ ہو سکتا ہے۔ البتہ، امریکی محکمہٴ خارجہ نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈرون حملے ختم کرنے کے لیے کوئی مدّت مقرر نہیں ہے۔

مسٹر ڈابنز نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں طالبان سے فی الوقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، کیونکہ، بقول اُن کے، دوحہ میں طالبان کا دفتر بند کیے جانے کے بعد طالبان افغان حکومت سے کسی بات چیت کے لیے تیّار نہیں۔

بعض مبصرین کے خیال میں افغانستان سے امریکی افواج کی اکثریت کے انخلا کے بعد تشدد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

امریکی مندوب کے مطابق، ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والا موجودہ معاہدہ ’عارضی ہے‘ اور ابھی ایران کے ساتھ امریکہ کے بہت سے معاملات پر تنازعات ہیں۔ اُن کے بقول، اس لیے، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکہ نیٹو کی سپلائی لائن ایران سے لے جانے کا سوچ رہا ہے۔

البتّہ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران سے ایٹمی معاملات پر تنازعات کا دیرینہ حل نکل آتا ہے اور امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس سے افغانستان میں حالات بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
XS
SM
MD
LG