رسائی کے لنکس

طبقاتی فرق مٹائے بغیر پاکستان میں تبدیلی ممکن نہیں: جواد احمد


گلوکار جواد احمد نے پاکستان میں ’انٹرنیشنل موومنٹ فار یُوتھ اینڈ ورکرز‘ کے ذریعے پاکستان کے کسانوں اور مزدوروں تک پہنچنے کا اہتمام کیا ہے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ جواد احمد کا انٹرویو وڈیو رپورٹ میں دیکھیئے۔

(جواد احمد سے خصوصی انٹرویو اوپر دی گئی وڈیو میں ملاحظہ کیجیئے)

90ء کی دہائی کے آخر میں اور 2000ء کے عشرے میں پاکستان میں موسیقی کے منظرنامے میں بہت سے نئے فنکار اُبھرے جنہوں نے اپنی محنت سے نام بنایا۔ انہی میں سے ایک ہیں جواد احمد، جنہوں نے پوپ میوزک میں پنجابی رنگ شامل کرکے اسے ایک الگ انداز دیا۔ لاہور میں ’یو ای ٹی‘ جیسے معتبر ادارے سے انجینیرنگ کی ڈگری لینے کے بعد اور زمانے کے دستور کے خلاف اپنے دل کی آواز سنتے ہوئے، جواد احمد نے موسیقی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔

’مگر کیا یہ سفر آسان تھا اور اس وقت ایک انجیئیر کے لیے موسیقی کا شعبہ چننا مشکل نہیں رہا ہوگا؟‘ یہ ہمارا سوال تھا جواد احمد سے جو گذشتہ دنوں واشنگٹن آئے ہوئے تھے، جنھوں نے وائس آف امریکہ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔

جواد کا کہنا تھا کہ، ’ظاہر ہے یہ سب اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ آج تو پھر بھی لوگ موسیقی کو ماضی کی نسبت بہتر سمجھتے ہیں۔ مگر اس زمانے میں ایک انجینئیر کے لیے موسیقی کا شعبہ اپنانا قدرے معیوب تصور کیا جاتا تھا۔ مگر میں نے صرف اپنے دل کی سنی اور نتیجہ سب کے سامنے ہے‘۔

جواد احمد کی موسیقی نے صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بھارت میں بھی دھوم مچائی اور ان کے چند گانوں کو بھارتی فلموں کا بھی حصہ بنایا گیا۔ جواد وہ واحد پوپ سنگر بھی ہیں جنہوں نے تین پاکستانی فلموں ’موسیٰ خان‘، ’میں ایک دن لوٹ کے آؤں گا‘ اور ’ورثہ‘ کے لیے موسیقی ترتیب دی۔ جواد کہتے ہیں کہ، ’پاکستان میں سینما اور فلموں کی بہت باتیں کی جاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں سینما واپس آبھی گیا تو کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ اس کی وجہ ہماری مارکیٹ ہے۔ ہم یہاں پر 18 کروڑ لوگوں کے لیے کم بجٹ کی فلمیں بناتے ہیں۔ دوسری طرف اگر پاکستان بھارت کے ساتھ ملکر فلمیں بنائے تو اس سے پاکستان کو زیادہ فائدہ ہونے کا امکان ہے۔ جیسا کہ ہم نے ’ورثہ‘ بنائی تھی‘۔

مگر جواد احمد کی شخصیت کا ایک رخ اور بھی ہے۔ یُوں تو ان کی پہچان ایک موسیقار اور گلوکار کی ہے مگر جواد سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ماضی میں بھی انہوں نے ’تعلیم فار آل‘ کے نام سے ایک ادارہ بنایا تھا جس کا مقصد بچوں کے لیے تعلیم تک رسائی کو آسان بنانا تھا۔

جواد احمد کہتے ہیں کہ، ’ہم سب ایک مختلف اور تبدیل شدہ پاکستان چاہتے ہیں مگر یہ تبدیلی کیسے آئے گی؟ دھرنے دے کر اور بغیر اصلاحات کے تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ اس کے لیے عمل کی ضرورت ہے۔ جب تک اس ملک میں غریب اور امیر کا طبقاتی فرق مٹانے کے لیے کاوشیں نہیں کی جائیں گی۔ ایسا ممکن نہیں ہوگا‘۔

یہی فرق مٹانے کے لیے جواد احمد نے پاکستان میں ’انٹرنیشنل موومنٹ فار یُوتھ اینڈ ورکرز‘ کے ذریعے پاکستان کے کسانوں اور مزدوروں تک پہنچنے کا اہتمام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ، ’مزدور اور کسان ہماری ملک کی ایک بڑی آبادی ہیں اور یہ کہنا بھی بے جا نہ ہوگا کہ یہ ملک انہی کے دم سے چلتا ہے مگر بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے؟ غربت اور افلاس؟‘ ۔۔۔۔ جواد مزید کہتے ہیں کہ، ’ملک میں تبدیلی کے لیے ان لوگوں کا مقدر سنوارنا ہوگا، کسانوں اور غریبوں کو ان کے حقوق کا احساس دلانا ہوگا اور انہیں بتانا ہوگا کہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے کسان اور مزدور جدوجہد کیسے کریں؟ ورنہ پاکستان کا طبقاتی نظام بد سے بدتر ہوتا چلا جائے گا‘۔

جواد احمد کی موسیقی کے شعبے کے لیے خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ِپاکستان نے انہیں 2006ء میں تمغہ ِامتیاز سے نوازا۔ 2006ء میں ہی جواد احمد کو وزارت ِصحت کی طرف سے پولیو کا سفیر مقرر کیا گیا جبکہ حکومت ِپاکستان نے 2005ء کے زلزلے کے بعد جواد احمد کی خدمات کے صلے میں انہیں ’ستارہ ِایثار‘ سے نوازا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG