رسائی کے لنکس

’میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اُس نے اپنی زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے جان دی ہے۔ مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ اُس کا نام جوتی سنگھ پانڈے تھا۔ وہ صرف میری بیٹی نہیں ہے، بلکہ پوری انڈیا کی بیٹی تھی‘

تیئیس سالہ میڈیکل کی طالبہ جسے سولہ دسمبر کی رات دہلی شہر کی ایک میں چھ لوگوں نے زیادتی کے بعد چلتی ہوئی بس سے پھینک دیا تھا ، دس روز تک دہلی کے ایک اسپتال میں داخل رہی اور 26 دسمبر کو اسےڈاکٹروں کی ہدایت پر علاج کے لیےسنگا پور بھیجا گیا ، مگر 29 دسمبر کو دل کا دورے پڑنے سے وہ اپنی زندگی کی بازی ہار گئی۔

جب وہ زیر علاج تھی، معاشرے کے ہر طبقہ فکر نے اس کے ساتھ ہونے والےظلم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئےاپنے غم وغصے کا اظہار کیا، مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ وہ تمام مجرموں کو پھانسی کی سزا کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس مطالبے کے حق میں تا حال دہلی میں مظاہرے جاری ہیں۔

اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے برطانوی اخبار ’سنڈے‘ سے پہلی دفعہ اپنی بیٹی کے نام کو ظاہر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو لوگ اُس کے نام سے یاد رکھیں ، تاکہ اُس کا نام ظلم کی کا شکار ہونے والی لڑکیوں کے لئے ہمت کا باعث بنے۔

بھارتی قانوں کے مطابق جنسی زیادتی کے کیس میں متاثرہ لوگوں کے کوائف بتانے کی ممانعت ہے، بشرطیکہ خود حکومت اس بات کی اجازت دے یا متاثرہ لڑکی کی موت واقع ہو جائے ۔

انھوں نے کہا کہ میری بیٹی نے کوئی غلط کام نہیں کیا تھا ۔ اُس نے اپنی زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے جان دی ہے۔مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے۔ اُس کا نام جوتی سنگھ پانڈے تھا ۔وہ صرف میری بیٹی نہیں ہے، بلکہ پوری انڈیا کی بیٹی تھی۔

لڑکی کے والد، 51 سالہ بدری سنگھ پانڈے کے دو بیٹے ہیں اور مرنے والی جوتی اُن کی اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی ۔ بقول مسٹر پانڈے، وہ اتر پردیش میں اپنے آبائی گاؤں بلیا سے دہلی جوتی کی خواہش کو پورا کرنے کے لیےمنتقل ہوئے تھے۔ اُسے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا۔ اُس کے اِس شوق کی تکمیل کے لیے زمین بیچی گئی اور لوگوں سے ادھار بھی مانگا ۔اپنی قلیل آمدنی میں سے وہ بہت مشکل سے اسے پڑھا رہا تھا ۔

وہ دہلی شہر سے باہر ایک میڈیکل کالج سے فزیو تھراپی میں چار سال مکمل کرنے کے بعد اپنی ’انٹرن شپ‘ مکمل کر رہی تھی ۔

گھر کے حالات کو بہتر کرنے کے لیے وہ جلد از جلد نوکری حاصل کرنا چاہتی تھی اور بیرون ملک جانے کی بھی آرزومند تھی ۔

وہ کہتے ہیں کہ انھیں اس واقعہ کا پورا علم نہیں تھا۔ اُنھیں اُسی رات دہلی اسپتال سے فون آیا کہ جوتی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔ اسپتال پہنچنے پر اُنھوں نے اپنی بیٹی کو آنکھ بند کئے ہوئے بستر پر لیٹا دیکھا تو اس کے ماتھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا نام پکارااور ہمت دلائی جس پر اس نےآہستگی سے آنکھیں کھولیں اور انھیں روتے ہوئے بتایا کہ وہ بہت تکلیف میں ہے ۔

پولیس کو جوتی نے دو بیانات میں واقعے کی تفصیل بتائی تھی۔ اُس وقت اسکی والدہ بھی اُس کے ساتھ تھیں ۔ مسٹر پانڈے کو کچھ نہ بتاتے ہوئے جوتی کی والدہ مسز آشا نے واقعہ کے بارے میں بس اتنا کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد انسان نہیں ہو سکتے اور نہ ہی جانور لگتے ہیں وہ تو شاید اس دنیا کی مخلوق ہی نہیں لگتے۔

مسٹر پانڈے کے مطابق وہ ان مجرموں کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے تھے مگر اب وہ عدالت سے ان کی پھانسی کی سزا کا اعلان سننے کے منتظر ہیں ۔

دہلی اسپتال میں دس دن زیر علاج رہنے کے دوران وہ کبھی ہوش میں رہتی تو کبھی بے ہوش ہو جاتی۔

جوتی نے ایک کاغذ پراپنی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ جینا چاہتی ہے اور اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔

حتی کہ، جب اسے سنگا پورعلاج کی غرض سے لے جایا جا رہا تھا تب بھی وہ پر امید تھی ۔اسے اتنی تکلیف کے باوجود ہماری فکر تھی وہ کبھی کبھی اپنی بھرائی ہوئی آواز میں ہمارے کھانے پینے کے بارے میں پوچھتی تھی۔

جوتی کے ساتھی 28 سالہ اویندر نے بھارتی ٹی وی کوایک انٹرویومیں اِس حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے،دہلی پولیس سے بر وقت مدد نہ ملنے کی شکایت کی تھی۔

حادثے کا شکار ہونے والے لڑکے کے کپڑوں پر سے بھی جوتی کے خون کے دھبے ملے ہیں، جبکہ اس کے بیانا ت کو بھی دہلی پولیس نے مسترد کرتےہوئے لڑکے پردس الزامات عائد کئے ہیں ۔

اسکیٹ کورٹ دہلی کی ابتدائی کاروائی میں ڈی این اے کی جانچ کا نتیجہ پیش کیا گیا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پانچوں ملزمان کے کپڑوں پر لگا خون متاثرہ لڑکی کا ہی ہے۔

لہذا، گذشتہ جمعرات ان ملزمان کو اجتماعی زیادتی اور قتل کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے ، جبکہ ایک خصوصی عدالت میں پیر کے روز پہلی بار ان مجرموں کو پیش کیا جائے گا ۔ ایک مجرم کی عمر سترہ سال ہونے کی وجہ سے اسے دوسری عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG