رسائی کے لنکس

’’سب نے کہا یہ مردوں کا کام ہے چھوڑ دو، کبھی خود کو مرد ڈرائیوروں سے پیچھے نہیں سمجھا، اب اکثر لوگ دیکھ کر ہمت بڑھاتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں": خاتون وین ڈرائیور کی ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو

کراچی: پاکستانی خواتین مختلف پیشوں میں اپنا نام پیدا کر رہی ہیں۔ وہ اب ان پیشوں کو بھی اپنا رہی ہیں جو کبھی صرف مردوں کا پیشہ تصور کیا جاتا تھا۔

جی ہاں۔ ہم بات کر رہے ہیں 'ڈرائیونگ' کے پیشے کی۔ کیا آپ نے پاکستان میں کبھی کسی خاتون کو اسکول کی وین چلاتے دیکھا ہے؟ آپ کا جواب نفی میں ہوگا۔

پاکستان میں آپ کو کئی خواتین اپنی ذاتی گاڑیاں ڈرائیو کرتی تو نظر آئیں گی، لیکن کراچی کی کبریٰ امجد نے اس پیشے کو اپنا کر ایک ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔

یہ خاتون وین ڈرائیور مرد ڈرائیوروں کی طرح شہر کی سڑکوں پر اپنی وین چلاتی ہیں۔ کبریٰ بی بی بطور خاتون ڈرائیور کے پچھلے نو برسوں سے اسکول کے طلبہ و طالبات کو 'پک اینڈ ڈراپ' سروس فراہم کر رہی ہیں، جو اُن کا ذریعہٴ روزگار ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ کی نمائندہ کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کبریٰ نے کہا ہے کہ "سب نے کہا یہ مردوں کا کام ہے، چھوڑ دو۔ کبھی خود کو مرد ڈرائیوروں سے پیچھے نہیں سمجھا۔ اب اکثر لوگ دیکھ کر ہمت بڑھاتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں"۔

وہ خواتین کو مردوں سے زیادہ با ہمت قرار دیتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں جہاں خواتین کو مردوں سے کم تصور کرنا عام سی بات ہے، ایسے میں ایک خاتون کا وین ڈرائیوری کے پیشے سے منسلک ہونا دیگر خواتین کے لئے بہترین مثال ہے۔

کبریٰ امجد نے اپنے اس منفرد پیشے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان میں خواتین اگر کچھ کرنا چاہیں تو کوئی بھی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔

کبریٰ پاکستان کی خواتین کے بارے میں ایک منفرد سوچ کی حامل ہیں۔ ان کے مطابق، پاکستانی خواتین مردوں سے زیادہ مضبوط ہیں۔

مزید تفصیل منسلک ویڈیو رپورٹ میں ملاحظہ فرمائیے:

XS
SM
MD
LG