رسائی کے لنکس

’پاکستان میں جتنے مسائل ہیں اس پر عوام خود ہی رو رہے ہیں، لیکن انھیں ہنسانا ضرور مشکل ہوگا‘

مانی لیاقت ایک باصلاحیت برٹش پاکستانی اداکار، کامیڈین اور میزبان ہیں جنھیں اسٹار پلس کے مزاحیہ شو 'گریٹ انڈین لافٹر چیلنج یوکے' کے فاتح کی حیثیت سے پہچان ملی جس کے بعد ان پر کامیابیوں کے در کھلتے چلے گئے۔

'بی بی سی' کی مشہور کامیڈی ٹی وی سیریل 'سٹیزن پاکستانی' اور بالی وڈ فلم' پوشر' میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کے جوہر دکھائےجبکہ برطانیہ میں پاکستانی شوز اور مقامی پاکستانی ٹی وی چینل کے بہت سے مزاحیہ ڈراموں میں کام کیا ہے۔

مانی لیاقت نے 'وی او اے ' سے ایک انٹرویو میں اپنے فنی سفر کے حوالے سے کچھ باتیں کی ہیں۔

ج:میں بچپن سےاسکول کےاسٹیج ڈراموں میں حصہ لیتا تھا۔ یہیں سے میری اصل تربیت ہوئی پھر میٹرک کرنے کے بعد برطانیہ آگیا اور مانچسٹر کے ایک ایکٹنگ اسکول سے دو سالہ ایکٹنگ کورس مکمل کیا۔ کیونکہ، میں سمجھتا ہوں کہ جب تک آپ سیکھتے نہیں ہیں آپ بول نہیں سکتے ہیں۔

یہ میری بہن کا مشورہ تھا کہ مجھے اپنے شوق کو ہی اپنا پروفیشن بنانا چاہیے۔ لہذا، انھوں نے سنہ2008میں اسٹار پلس کے مزاحیے شو 'گریٹ انڈین لافٹر چیلنچ یو کے' کے لیے میرے نام کا انداراج کروا دیا۔ میرا انتخاب بیس ہزار افراد میں سے کیا گیا جو اس پروگرام میں کام کرنے کے خواہشمند تھےمجھے یاد ہے کہ، سیمی فائنل سے فائنل تک پہنچنا اور پھر مقابلہ جیتنا یہ سب کچھ مجھے ایک خواب سا لگ رہا تھا ۔

پھر، 2010ءمیں ایک انڈین فلم 'پوشر' جو منشیات کے موضوع پر بنی تھی اس میں ایک پولیس والے کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کی ہیروئن مہیما چوہدری تھیں۔

سنہ2012 میں مجھے'بی بی سی' کے کامیڈی سیریل سٹیزن پاکستانی میں کام کرنے کا موقع ملا جس سے مجھے ایک الگ ہی پہچان ملی اس ڈرامے میں میرے کردار کو لوگوں نے بہت پسند کیا کچھ عرصے قبل مجھے مانچسٹر میں'شاہ رخ خان کے ساتھ ایک شام' کی میزبانی کا موقع ملا۔

س: کیا پاکستانی مزاحیہ ڈرامےمیں اداکاری کرنا چاہتے ہو؟

ج: پاکستانی مزاحیہ ڈرامے میں کام کرنا میری دیرینہ خواہش ہےکیونکہ، میرا سارا تجربہ برطانیہ کا ہے جو وہاں کے لیے نیا ہوگا۔ جبکہ، وہاں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ پاکستان میں باصلاحیت فن کاروں کی کمی نہیں ہے ہمارے لیجنڈ کامیڈین مرحوم ننھا اور منور ظریف کی جگہ آج بھی کوئی نہیں لے سکا ہے۔

پاکستانی فنکاروں کوایک بیک اپ کی ضرورت ہے جب کامیڈین شکیل صدیقی انڈیا کے مزاحیہ پروگرام میں حصہ لیتا ہے تب لوگ جانتے ہیں کہ وہ کتنا باصلاحیت ہے، عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان اس بات کی عمدہ مثال ہیں۔

س: کیا پاکستان کی نسبت برطانیہ میں کام حاصل کرنا آسان ہوتا ہے؟

ج: پاکستانی کمیونٹی میں گنتی کے فنکار ہیں جنھیں زیادہ تر اپنی ہی کمیونٹی میں کام کرنا ہوتا ہے۔ ایسے میں مقابلہ کافی سخت ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی پروفیشنل جیلسی موجود ہے جو ہمارے اپنوں میں بھی ہے اور گوروں میں بھی موجود ہے۔ لیکن، یہاں کام صرف اور صرف میرٹ پر ملتا ہے۔

س: ایک کامیڈین کے لیے اس کا موٹاپا کتنا مدگار ثابت ہوتا ہے؟

ج: کم از کم میرے معاملے میں تو ایسا ہی ہے مجھے اس مقام تک پہچانے میں میرے موٹاپے کا بہت ہاتھ ہے۔ یہ میری شخصیت کا حصہ ہے۔ لوگ مجھے اسی طرح دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ حالانکہ، زیادہ وزنی ہونا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے لیکن ہمارے شعبے میں اسے برا نہیں سمجھا جاتا ہےبلکہ یہ ایک بونس ہے۔


س: کیا بچپن سے ہی مسخرے تھے؟

ج: بچپن میں نقلیں اتارنا، لطیفہ سنانا میرا مشغلہ تھا، جس پر گھر والے بہت ہنسا کرتے تھے۔ مجھے اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ مجھ میں کوئی خاص بات ہے جبھی میرے لطیفہ سنانے پر سب کو ہنسی آتی ہے۔ یوں سمجھیے کہ خاندان میں کہا جاتا تھا کہ رونق لگانی ہے تو مانی کو بلا لو۔ لیکن مانی کو مانی بنانے میں میری ماں کی دعائیں کام آئی ہیں اور دوسری میری خود اعتمادی جس نے مجھے ہمیشہ سنبھالا ہے۔

س: خود پر ہنسنا اچھا لگتا ہے یا دوسروں پر؟

ج : زیادہ تر تو اپنے ہی بخیے ادھیڑتا ہوں۔ لیکن، یہ بھی سچ ہے کہ دوسروں پر رکھ کر مذاق کرنا خاص طور پر شادی شدہ مرد حضرات اور خواتین دو ایسے موضوع ہیں جن پر میں گھنٹوں فی البدیہہ لطیفےسنا سکتا ہوں۔ میں نے ایک ٹی وی چینل کے لیے پاکستانی سیاستدانوں کے گیٹ اپ میں بھی کامیڈی کی ہے بلکہ، برطانیہ میں مجھے لوگ پاکیزہ آنٹی کے نام سے بھی جانتے ہیں یہ میرے ایک مقبول کردار کا نام ہے جو میری اپنی تخلیق ہے۔

س:ایک اسٹیج کامیڈین کے لیے حاضرین کا سینس آف ہیومر کتنا معنی رکھتا ہے؟

ج:یوں سمجھیے کہ ان میں مزاح کا ذوق ہوگا تبھی تو وہ ہماری لائینیں سمجھ سکیں گے یا پنچ پر قہقہہ لگائیں گے۔ کبھی کبھی کسی ’ٹینس‘ ماحول کو بدلنے کی ذمہ داری ہمارے کاندھے پر ہوتی ہے تو کبھی خود ٹینشن میں رہتے ہوئے دوسروں کو ہنسانا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ اپنے ایک اسٹیج شو کے دوران مجھے لوگوں کو مائیکل جیکسن کےفوت ہونے کی خبر دینی تھی اور اپنے شو کو دلچسپی بھی برقرار رکھنی تھی۔

س: کسی کو رلانا مشکل ہوتا ہے یا ہنسانا؟

ج:پاکستان میں جتنے مسائل ہیں اس پر عوام خود ہی رو رہے ہیں، لیکن انھیں ہنسانا ضرور مشکل ہوگا۔ جہاں تک برطانیہ کا تعلق ہے تو یہاں بھی لوگوں کو ہنسانے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ مزاح کی کوئی زبان نہیں ہوتی ہے یہ ایک کامیڈین کے انداز اس کی چال ڈھال سے عیاں ہو جاتا ہے جب کسی کامیڈین کے بولنے سے پہلے ہی لوگ منہ کھول دیں تو سمجھ لیجیے کہ وہ ایک بڑا فنکار ہے ۔

س : مستقبل کے لیے کیا ارادے ہیں؟

ج: مستقبل میں ہالی وڈ جا کر کام کرنا چاہتا ہوں اور آسکر جیت کر لانا چاہتا ہوں۔ ہم جہاں بھی رہیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے اپنے وطن سے بے حد لگاؤ ہے۔ میں ایک پاکستانی کی حیثیت سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنوانا چاہتا ہوں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG