رسائی کے لنکس

’’اچھا صحافی بننے کی کوشش کریں۔ اپنے مقاصد واضح رکھیں۔ لیکن ہر کسی کے نقطہ نظر کر سامنے رکھتے ہوئے، جتنا ہوسکے غیر جانبدار رہیں۔ پاکستان میں یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔، اور اس پیشے میں زیادہ پیسہ بھی نہیں۔ تو میں ان صحافیوں کو سراہتی ہوں جو وہاں کام کرتے ہیں‘‘

دنیا بھر میں آزادی صحافت پر نگاہ رکھنے والے ایک ادارے ’فریڈم ہاؤس‘ کے مطابق سال 2015 میں دنیا بھر میں آزادی صحافت متاثر ہوئی ہے۔ اور گزشتہ 10 سال کے مقابلے میں سال 2015 میں صحافتی آزادی نچلی ترین سطح پر رہی ہے۔

جبکہ ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگرچہ پاکستان میں شعبہ صحافت کو درپیش مسائل میں کمی واقع ہوئی ہے جیسے کہ پاکستان صحافتی آزادی کے انڈیکس میں 159 سے 147 ویں نمبر پر آگیا ہے اور سیاسی تنازعات کی کوریج میں پاکستانی میڈیا کا شمار دنیا کے آزاد ترین ذرائع ابلاغ میں ہوتا ہے۔ لیکن، حالیہ چند مہینوں میں پاکستان میں بھی ناصرف صحافیوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے، بلکہ مختلف نشریاتی اداروں کے دفاتر پر حملے بھی کیے گئے۔

پاکستان میں صحافت کی صورتحال اور بین الاقوامی صحافیوں کے لیے پاکستان سے رپورٹنگ کے تجربات کے بارے میں ’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ سے وابستہ صحافی، پامیلا کا کہنا تھا کہ انھیں ایک خوشگوار حیرت ہوئی جب لوگوں نے انھیں پاکستان میں اتنے پیار سے خوش آمدید کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنی جان پہچان کے لوگوں میں ہوں۔ جو میں نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا ماحول ہوگا‘‘۔ صحافی پامیلا کانسٹیبل کئی سال تک پاکستان میں رہی ہیں اور واشنگٹن پوسٹ کے لیے پاکستان اور افغانستان کی خبروں کی کوریج کرتی رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ’’مجھے یہ ضرور محسوس ہوا کہ پاکستان مذہبی طور پر تھوڑا سا زیادہ قدامت پسند ہے اس کے مقابلے میں جتنا پاکستان تاریخی طور پر رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ جب میں پہلی بار پاکستان گئی، سال 1998 میں، تو اس وقت طالبان اور شدت پسند عناصر کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا۔ یعنی لوگ ملنسار تھے مگر بنیاد پرستی کی طرف مائل ہو رہے تھے‘‘۔

سال 2001ء کے واقعات، بعد تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ایک رولر کوسٹر کی طرح تبدیلی آئی۔ اچانک سے۔ اس وقت پاکستان کے لیے چیزیں بہت پیچیدہ بھی تھیں۔ جیسے پاکستان میں جمہوری عمل ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے اور جنرل مشرف کی حکومت کے اپنے مسائل تھے۔ آپ صرف ایک پارلیمنٹ کے ممبر یا ایک جنرل سے بات کرکے پاکستان کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔ تو میں تو یہ کہوں گی کہ پاکستان میں اتنے سال کام کرنے کے بعد بھی میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ میں پاکستان کو مکمل طور پر سمجھ پائی ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’سب سے مشکل دہشت گردی پر رپورٹنگ کرنا لگا۔ خاص طور پر شمالی علاقوں میں جہاں حملے ہو رہے تھے۔ پشاور اور اس سے آگے کے علاقوں میں رپورٹنگ کرنا، جب حکومت بھی آپ سے کچھ خاص خوش نا ہو، ذرا مشکل ثابت ہوا‘‘۔ انھوں نے بتایا کہ عام لوگ اور میرے صحافی ساتھی بہت مددگار تھے۔ لیکن، پھر بھی مشکلات تھیں۔ تو چیلنج یہ تھا کہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنا کام کریں۔

پامیلا کانسٹیبل کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’’یہاں اور دنیا میں لوگ پاکستان کے بارے میں اتنا نہیں جانتے۔ بہت سے امریکی کبھی پاکستان گئے ہی نہیں۔ برعکس انڈیا کے، جہاں ہزاروں امریکی ہر سال سیاحت کے لیے جاتے ہیں۔ تو پاکستان لوگوں کے لیے ایک اجنبی جگہ ہے اس لیے آپ کو کوئی بھی خبر دینے سے پہلے بہت زیادہ سیاق و سباق بتانا پڑتا ہے‘‘۔

عام لوگوں سے انٹرایکشن کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’یہ ایک وسیع موضوع ہے پاکستان میں مختلف لوگ ہیں اور عام لوگ سب چاہتے ہیں کہ انھیں اپنی بات کہنے کا موقع ملے‘‘۔ جیسا کہ انھوں نے بتایا کہ ’’جب میں پاکستان کے بارے میں اپنی کتاب لکھ رہی تھی تو میں سندھ گئی جہاں شدید سیلاب آیا ہوا تھا۔ وہاں لوگوں نے مجھے اپنی دلخراش کہانیاں سنائیں۔ میں پاکستان میں ہر شعبہ زندگی کے لوگوں سے ملی اور کئی جگہوں پر گئی۔ لیکن مجھے کبھی ڈر اور خوف کا احساس نہیں ہوا۔ لوگوں سے میری مشکل موضوعات پر گفتگو ہوئی اور مجھے لگا کہ اب مجھے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔ لیکن، میں نے کبھی یہ نہیں محسوس کیا کہ مجھے خطرہ ہے‘‘۔

پامیلا کانسٹیبل کی کتاب Playing with Fire, Pakistan At War With Itself

کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کتاب کو لکھنے سے میرے دو مقاصد تھے۔ ایک تو ذرا سطحی سا کہ پاکستان سے باہر لوگوں کو پاکستان کے بارے میں آگاہ کرنا۔ اور دوسرا یہ کہ پاکستان جسے میں نے دیکھا، جانا اور محسوس کیا، جو مجھے اچھا لگا، وہ پاکستان مشکل میں تھا۔ مجھے وہ پاکستان اپنی معاشرتی اور جمہوری اقدار کھوتا ہوا نظر آیا۔ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ اوسامہ بن لادن کی موت پاکستان سے آنے والی ایک بڑی خبر تھی. میرے ذاتی خیال میں سلمان تاثیر کی موت اس سے بڑی اور اہم خبر تھی۔ اس خبر نے ان خطرات کی طرف اشارہ کیا جو پاکستان کو لاحق ہیں۔ میں نے اپنی کتاب میں جناح کی ویژن کی بات کی ہے اور میرے خیال سے بلکہ سینکڑوں پاکستانیوں کے خیال سے جن سے میں نے بات کی وہ پاکستان خطرے میں ہے جس کا خواب جناح نے دیکھا تھا۔

پامیلا کانسٹیبل سے کچھ مزید سوال و جواب۔

ثاقب الاسلام۔ ایک صحافی کے طور پر کوئی ایسی سٹوری جو آپ نے پاکستان میں کی اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے گی؟

پامیلا کانسٹیبل۔ ایک سٹوری اور ایک تجربہ جو میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا کہ میں نے کئی دن ایک اینٹوں کے بھٹے میں گزارے۔ یہ جاننے کے لیے کہ جو لوگ وہاں کام کرتے ہیں وہ کن حالات سے گزرتے ہیں۔ میں وہ چیز کبھی نہیں بھولوں گی کہ معاشی طور پر تنگ دست لوگ کیسے مشکل سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اور ان کے دل و دماغ پر کیا گزرتی ہے۔اور دوسرا جب میں اپنی کتاب لکھ رہی تھی تو میں بہت سی خانقاہوں پر گئی اور صوفیائے کرام کے مزاروں کو قریب سے دیکھا، مجھے وہاں بہت پیار ملا، لوگ نہایت اچھے طریقے سے پیش آئے، میں وہ مناظر کبھی نہیں بھول سکتی۔

ثاقب الاسلام۔ ایک سنہرے بالوں والی غیر ملکی خاتون کو لوگ مڑ مڑ کر دیکھتے تو ہوں گے؟

پامیلا کانسٹیبل۔ نہیں۔ مزاروں اور خانقاہوں پر لوگ اپنی مستی میں مگن رہتے تھے۔ بہت پر امن اور روادار لوگ تھے۔ مجھے داتا دربار پر جانا بہت اچھا لگتا تھا۔ یہ وجہ ہے کہ جب داتا دربار پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تو مجھے بہت افسوس ہوا۔ پاکستان میں لاہور میرا پسندیدہ شہر ہے۔

ثاقب الاسلام ۔ لاہور ہی کیوں؟

پامیلا کانسٹیبل۔ میں تاریخ کی طالب علم ہوں اور مجھے تاریخی چیزیں بہت پسند ہیں۔

ثاقب الاسلام۔ تو جب آپ یہاں واپس آئیں تو آپ پاکستان کے بارے میں کیا مس کرتی ہیں۔

پامیلا کانسٹیبل۔ یہ ایک اچھا سوال ہے کہ میں کیا مس کرتی ہوں۔ مجھے اپنے دوست بہت یاد آتے ہیں۔ میں نے کئی برسوں میں بہت سے اچھے دوست بنائے۔ میں پاکستانی کھانے اور لوگوں کی میزبانی مس کرتی ہوں۔ وہ زندگی کا طریقہ جہاں لوگ جلدی میں نہیں ہیں۔ ہر چیز سکون میں ہے کام تو ضروری ہے لیکن اس دوران ایک ٹھہراؤ کا احساس بھی ہے۔

ثاقب۔۔ آپ پاکستان سے باہر لوگوں کو پاکستان کے بارے میں کچھ کہنا چاہیں گی؟

پامیلا۔۔ بلکل۔ میں کہنا چاہتی ہوں کہ ہر ملک کی طرح پاکستان کے بھی اچھے اور برے پہلو ہیں۔ ہر ملک کی طرح کچھ علاقوں میں آپ نہیں جاسکتے اور بہت سی جگہوں پر آپ اچھا محسوس کرتے ہیں۔ میری خواہش ہےکہ پاکستان میں بین الاقوامی سیاحت فروغ پائے، لوگ وہاں جائیں اور پاکستان اور مغرب کے تعلقات بہتر ہوں۔

ثاقب۔۔ نوجوان صحافیوں کو کچھ کہنا چاہیں گی؟ کچھ ٹپس دینا چاہیں گی؟ صحافت کے حوالے سے۔

پامیلا۔۔۔میں کہوں گی کوشش کریں کہ آپ اپنی صحافتی آزادی کو برقرار رکھیں۔ ایک اچھا صحافی بننے کی کوشش کریں۔ اپنے مقاصد واضح رکھیں۔ لیکن ہر کسی کے نقطہ نظر کر سامنے رکھتے ہوئے، جتنا ہوسکے غیر جانبدار رہیں۔ اور پاکستان میں یہ سب سے بڑا چیلنج ہے۔، اور اس پیشے میں زیادہ پیسہ بھی نہیں۔ تو میں ان صحافیوں کو سراہتی ہوں جو وہاں کام کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG