رسائی کے لنکس

بقول اُن کے، ’اگر سب کچھ فوج نے کرنا ہے، تو سیاستدان گھر چلے جائیں۔۔ فوجی عدالتیں فوجیوں کے لیے ٹھیک، سویلین کے لیے نہیں ہونی چاہئیں۔۔ پھانسیاں حالات کے پس منظر میں ہیں۔ مستقل اصلاحات اور بہتری کی ضرورت ہے‘

ممتاز ماہر قانون اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن، عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ پشاور حملے کے باعث جو صورتحال پیدا ہوئی ہے، وہ، بقول اُن کے، ’فیصلہ کُن بھی ہے اور نازک بھی‘۔

اُنھوں نے یہ بات، ’وائس آف امریکہ‘ کے ریڈیو پروگرام ’ان دا نیوز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کے بقول،’جو فیصلے لیے جا رہے ہیں، ان کے نتائج کے بارے میں، میں تشکیک کا شکار ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پرانے ’منترے‘ نکالے جا رہے ہیں، جیسے فوجی عدالتیں بنائی جائیں اور سیکیورٹی فورسز کو بالکل اجازت دے دی جائے کہ وہ جس کو دھشت گرد سمجھیں، ان کو مار ڈالیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ حل نہیں ہے۔ اور حکومت کو چاہیئے کہ وہ معاشرے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون سازی ضرور کرے۔ لیکن، قانون سازی میں لا قانونیت نہ پھیلائے‘۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ یا تو حکمران ترامیم کے لیے تیار نہیں یا پھر سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

اُنھوں نے کہا کہ ’اگر سب کچھ فوج نے کرنا ہے، تو سیاستدان گھر چلے جائیں۔۔ فوجی عدالتیں فوجیوں کے لیے ٹھیک، سویلین کے لیے نہیں ہونی چاہئیں۔۔ پھانسیاں حالات کے پس منظر میں ہیں۔ مستقل اصلاحات اور بہتری کی ضرورت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’قانون اگر جی ایچ کیو نے بنانا ہے اور لڑیں سویلین۔۔ حکومت کرتی ہے عدلیہ اور سیاستدان صرف فالورز ہیں۔ یہ نظام ہی الٹا پلٹا ہے۔۔‘

دوسری جانب، حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے راہنما سینٹر ظفر علی شاہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے جہاں فیصلے سیاسی قیادت کر رہی ہے اور فوج بطور ایک عمل درآمد کرانے والے ادارے کے اقدامات لے رہی ہے۔

تفصیل کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG