رسائی کے لنکس

نیویارک: امام کے قتل میں ممکنہ نفرت کے جرم کی تحقیقات


آسکر مورل (فائل فوٹو)

آسکر مورل (فائل فوٹو)

کوئنز کورٹ کے فوجداری جج نے ملزم مورل کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ ایک گرینڈ جیوری کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت کے لیے 18 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

نیویارک میں اختتام ہفتہ دو مسلمانوں کے قتل میں ملوث آسکر مورل پر منگل کو نیویارک سٹی کی ایک عدالت میں فرد جرم عائد کی گئی۔

نیویارک کے ایک ڈسٹرکٹ اٹارنی رچرڈ براؤن نے منگل کی دوپہر کو 35 سالہ مورل پر دو افراد کو قتل اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کا باضبابطہ الزام عائد کیا تھا۔

امام مولانا اخون جی اور ان کے ساتھی طہار الدین کو ہفتے کو نیویارک کی "الفرقان مسجد" کے قریب گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

براؤن نے ایک بیان میں کہا کہ "ملزم پر ایک انتہائی قابل احترام اور محبوب مذہبی رہنما اور ان کے دوست کو قتل کرنے کا الزام ہے"۔

" ان کی موت ان کے خاندانوں اور ان کی برادری کے لیے ایک بہت بڑا نقصان ہے"۔

کوئنز کورٹ کے ایک جج نے ملزم مورل کو بغیر ضمانت کے حراست میں رکھنے کا حکم دیا ہے جب کہ ایک گرینڈ جیوری کی طرف سے اس مقدمے کی سماعت کے لیے 18 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

اگر مورل اس مقدمے میں مجرم قرار پاتا ہے تو اسے بغیر پیرول کی سہولت کے عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

دوسری طرف براؤن نے مزید کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش اس حوالے سے بھی جاری ہے کہ کیا ملزم کا عمل نفرت پر مبنی جرم کے زمرے میں تو نہیں آتا ہے۔

حکام اس واقعہ کی محرکات کی تفتیش کر رہے ہیں جب کہ نیویارک کی مسلم برادری کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں فائرنگ کے اس واقعہ کی وجہ مذہبی منافرت تھی اور اُن کے خیال میں یہ امریکہ میں حال ہی میں مسلمان برادری کے خلاف پیش آنے والے واقعات کی ایک کڑی تھا۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کی طرف سے اکھٹے کیے گئے اور نفرت پر مبنی انتہا پسندی کے مطالعاتی مرکز کی طرف سے فراہم کیے گئے اعداد و شمار حالیہ برسوں میں ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ نفرت پر مبنی جرائم میں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے مطابق ہر ماہ اوسطً 12.6 ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔

قتل کیے گئے اخون جی اور طہار الدین دونوں بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری تھے اور اُن کے جنازے کے بعد نیویارک سٹی کے مئیر بل دی بلاسیو نے بنگلہ دیشی نژاد اور نیویارک کی مسلمان برادری کے لیے تحفظ کے اقدامات میں اضافہ کر دیا۔

بل دی بلاسیو نے کہا کہ "یہ ایک دکھ کی گھڑی ہے لیکن یہ ایک ایسا وقت ہے جب ہم اس بات کا اعادہ کریں گے کہ اس شہر میں ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ایک پر حملہ ہم سب پر حملہ ہے"۔

"اور ایک ہم آہنگی اور اتحاد کی حوصلہ افزائی کے لیے ہم سب مل کر کام کریں گے جس پر نیویارک کے مکین یقین رکھتے ہیں"۔

انھوں نے مزید کہا کہ تقسیم کرنے والی آوازوں کے خلاف لڑنے کا بہترین طریقہ مسلمان برادری کو محفوظ رکھنا ہے۔

XS
SM
MD
LG