رسائی کے لنکس

نیویارک: کار بم کے ناکام حملے کے ملزم سے پوچھ گچھ


دستاویز کا عکس جس میں فیصل شہزاد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں

دستاویز کا عکس جس میں فیصل شہزاد کے خلاف الزامات عائد کیے گئے ہیں

امریکی عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی نژاد امریکی جن پر نیو یارک شہر میں کار بم سے کسی حملے کی کوشش کا الزام ہے، اُن تفتیش کاروں کے ساتھ تعاون کررہے ہیں جو حملے کے منصوبے کے محرّکات معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

30 سالہ مشتبہ شخص، فیصل شہزاد کو الزامات کا سامنا کرنے کے لیے منگل کے روز نیو یارک کی ایک عدالت میں پیش ہونا تھا ۔ لیکن اُس سماعت کو بدھ یا جمعرات تک کے لیے ملتوی کردیا گیا تاکہ تفتیش کار ان سے پوچھ گچھ جاری رکھ سکیں۔

عہدے داروں کا کہنا ہے کہ شہزاد نے سازش میں اپنے عمل دخل کا اعتراف کرلیا ہے اور وہ اہم اطلاعات فراہم کررہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے وہ مِرینڈا قانون کے تحت اپنے اُس حق سے دستبردار ہوگئے ہیں، جو انہیں خاموش رہنے کی اجازت دیتا ہے۔

نفاذ قانون کے ذمّے دار حکام نے نیو یارک کے ٹائمز سکوائر میں موٹر گاڑی کے ساتھ شہزاد کے تعلق کا یقین ہوجانے کے بعد انہیں گرفتار کیا تھا۔ اُس موٹر گاڑی میں ایک بے ڈھب قسم کا بم رکھا ہوا ملا تھا۔حکام نے شہزاد کی نقل و حرکت کا پتا چلاکر آخرِ کار انہیں پیر کے روز دیر گئے ایک ایسے طیارے سے اُتار لیا تھا جو نیو یارک سے دبئى روانہ ہونے کی تیاری کررہا تھا۔

حکام سمندر پار دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ان کے ممکنہ رابطوں کی چھان بین کررہے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ شہزاد نے یہ اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شمال مغربی پاکستان میں دھماکا خیز مواد استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی تھی۔

تفتیش کار اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ شہزاد کا نام اُس کی گرفتاری سے کئى گھنٹے پہلے ” نو فلائى لِسٹ “ میں شامل کردیے جانے کے باوجود ، وہ دبئى جانے والے طیارے میں کس طرح سوار ہوگیا۔

XS
SM
MD
LG