رسائی کے لنکس

سائبر حملے کے نتیجے میں 'سونی' کے 47 ہزار ملازمین اور اہم شخصیات کی نجی تفصیلات انٹرنیٹ پر جاری ہوگئی تھیں۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے 'ایف بی آئی' کے سربراہ جیمز کونی نے کہا ہے کہ انہیں 'سونی پکچرز انٹرٹینمنٹ' کے کمپیوٹر نظام پر ہونے والے بڑے حملے میں ملوث افراد کا سراغ لگانے میں تاحال کامیابی نہیں ہوئی ہے۔

جیمزکونی نے منگل کو صحافیوں کو بتایا کہ حملے کی تحقیقات کرنے والے 'ایف بی آئی' کے افسران تاحال حملے کے ذمہ داران کا تعین کرنے کے قابل نہیں ہوسکے ہیں لیکن، ان کے بقول، تحقیقات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حملے کی تحقیقات کرنے والے اہلکار کسی کو موردِ الزام ٹہرانے سے قبل پوری احتیاط کے ساتھ تمام ضروری شواہد اکٹھا کرنے چاہتے ہیں تاکہ ذمہ داران کا حتمی تعین کیا جاسکے۔

گزشتہ ماہ کیے جانے والے اس سائبر حملے نے جاپانی کمپنی کے زیرِ انتظام ہالی وڈ فلم اسٹوڈیو کے کمپیوٹر نظام کو بری طرح متاثر کیا تھا۔

سائبر حملے کے نتیجے میں 'سونی' کے 47 ہزار ملازمین اور اہم شخصیات کی نجی تفصیلات انٹرنیٹ پر جاری ہوگئی تھیں۔

ہیکرز نے پیر کو 'سونی' گروپ کے 'پلے اسٹیشن نیٹ ورک' پر بھی سائبر حملہ کیا جس کے نتیجے میں گیمنگ کا آن لائن اسٹور دو گھنٹے سے زائد تک بند رہا تھا۔

امریکی ذرائع ابلاغ میں آنے والی بعض رپورٹوں میں قیاس آرائی کی گئی ہے کہ 'سونی' کے کمپیوٹر نیٹ ورکس پر یہ حملے شمالی کوریا کی جانب سے 'سونی انٹرٹینمنٹ' کی نئی فلم 'دی انٹرویو' کا ردِ عمل ہوسکتے ہیں جو عن قریب نمائش کے لیے پیش کی جانے والی ہے۔

اس مزاحیہ فلم کی کہانی شمالی کوریا کی کمیونسٹ حکومت کے سربراہ کم جانگ ان پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں سیٹھ راجن اور جیمز فرانکو جیسے ہالی ووڈ کے معروف ستاروں نے اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔

شمالی کوریا کی حکومت نے اپنے ایک بیان میں 'سونی' پر سائبر حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے لیکن ساتھ ہی مذکورہ فلم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

XS
SM
MD
LG