رسائی کے لنکس

نظروں سے اوجھل کرنے والے لباس کی ٹیکنالوجی


سونے کی پلیٹ پر بنے ہوئے ابھار کر روشنی کی ٹیکنالوجی کی مدد سے چھپانے کا تجربہ کیا گیا

سونے کی پلیٹ پر بنے ہوئے ابھار کر روشنی کی ٹیکنالوجی کی مدد سے چھپانے کا تجربہ کیا گیا

انسان کو دوسروں کی نظروں سے اوجھل بنانے والے لباس کی تیاری میں ابھی کئی سال اور لگ سکتے ہیں، لیکن جرمنی کے کچھ ماہرین غیر مرئی لباس سے متعلقہ ایک ایسے شعبے میں کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں الیکٹران مائیکروسکوپ سے دس گنا زیادہ طاقت ور خورد بین بنائی جا سکے گی اور روشنی کی سمت کی تبدیلی سے بجلی تیار کی جاسکے گی۔

یہ شعبہ روشنی کی سمت میں تبدیلی سے متعلق ہے۔ سائنس دان اس کے لیے نینو ٹیکنالوجی استعمال کررہے ہیں جس میں وہ روشنی کو تمام فاصلوں اور بہت سی سمتوں سے اس انداز میں موڑنے کے لیے، کہ وہ انسانی آنکھ سے اوجھل ہوجائے، الیکٹرانز اور سیمی کنڈکٹرز کی مدد سے انتہائی چھوٹے آلات تیار کریں گے۔

جرمنی کے کارلزروہے (Karlsruhe) انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ روشنی کو تین سمتوں میں موڑ کر کسی چیز کو نظروں سے اوجھل کیا جاسکتا ہے، سونے کی پلیٹ پر بنائے گئے ایک چھوٹے سے ابھار کو چھپانے کا مظاہرہ کیا۔

امریکی کی پرڈو یونیورسٹی کے الیکٹریکل اور کمپیوٹر انجنیئرنگ کے پروفیسر ولادی شو لائیو کہتے ہیں کہ روشنی ایک ہی سمت سفر کرتی ہے لیکن ٹرانسفارمیشن آپٹکس (transformation optics) کی مدد سے روشنی کی سمت اسی طرح موڑی جا سکتی ہے جس طرح کسی ندی میں بہتا ہوا پانی کسی پتھر کے گرد سے گھوم کر آگے نکل جاتا ہے۔

پروفیسر کہتے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب ٹرانسفارمیشن آپٹکس کے استعمال سے الیکٹران خوردبین سے دس گنا زیادہ طاقت ور خوردبین تیار کرلی جائے گی۔ اس طریقہٴ کار کے تحت ٹرانسفارمیشن آپٹکس کو ایک مخصوص جگہ پر مرکوز کر کےسورج کی روشنی کو بجلی میں تبدیل کیا جا سکے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب آپ اسے کسی انتہائی چھوٹی جگہ پر مرتکز کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں روشنی کو بڑی آسانی کے ساتھ بجلی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، اور کیونکہ آج کل لوگ توانائی میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں تو یہ روشنی کو فوری طورپر بجلی میں تبدیل کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہوسکتا ہے۔

جرمن سائنس دان کہتے ہیں کہ اگرچہ مستقبل میں ایسے کچھ طریقے دریافت ہوسکتے ہیں تاہم چیزوں کو نظروں سے مکمل طورپر اوجھل کرنے سے متعلق ٹیکنالوجی کی تیاری میں خاصا وقت لگ سکتا ہے۔

نظروں سے غائب کرنے کے لیے اب تک جو لباس تیار کیے گئے ہیں وہ دواطراف سے چیزوں کو نظروں سے چھپا سکتے ہیں لیکن ان کے استعمال سے چیز مکمل طورپر نظروں سے غائب نہیں ہوتی بلکہ اس کا ایک سایہ سا باقی رہ جاتا ہے جس کا آلات کی مدد سے سراغ لگایا جاسکتا ہے۔

پرڈو یونیورسٹی کے پروفیسر ولادی میر کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ ماہرین نے کسی چیز کو تین سمتوں سے اوجھل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی کامیاب تجریہ ہے اور مستقبل میں اس کے دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اس ریسرچ کی رپورٹ اس ہفتے کے جریدے ’سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے۔



XS
SM
MD
LG