رسائی کے لنکس

یمن میں ایتھوپیا کے شہریوں کے اغوا برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ: رپورٹ


فائل فوٹو

فائل فوٹو

تارکین وطن کی عالمی تنظیم کی رپورٹ ایک انتہائی پریشان کن صورت حال کی غمازی کرتی ہے جس میں اسمگلر کام کی تلاش میں سعودی عرب جانے والے غیر محفوظ تارکین وطن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

تارکین وطن کی عالمی تنظیم ’آئی او ایم‘ کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ یمن میں بھتہ خوری میں ملوث گروہ کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔

اس کا کہنا ہے کہ اسمگلر، مسلح گروہ اور دوسرے افراد ایتھوپیا کے غیر محفوظ تارکین وطن کو سعودی عرب جاتے ہوئے انہیں تاوان کے لیے اغوا کر رہے ہیں۔

تارکین وطن کی عالمی تنظیم نے یمن کے بحران میں پھنسے ایتھوپیا کے تقریباً 3,500 تارکین وطن کی ان کے اپنے گھروں کو واپسی میں مدد کی۔

’آئی او ایم‘ کی طرف سے واپس آنے والے افراد سے تفصیلی انٹرویوز کے بعد مرتب کی گئی رپورٹ ایک انتہائی پریشان کن صورت حال کی غمازی کرتی ہے، جس میں اسمگلر کام کی تلاش میں سعودی عرب جانے والے غیر محفوظ تارکین وطن کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

’آئی او ایم‘ کے ترجمان جوئیل ملمین کا کہنا ہے کہ امدادی کارکنوں کی طرف سے بیان کی گئی تفصیل انتہائی خوفناک ہے ’’ایسا نظر آتا ہے کہ ملیشیا اور مسلح اسمگلر گروہوں کی طرف سے ایسی کارروائیاں جاری ہیں جس میں مردوں کے کئی گروپوں کو بظاہر تاوان کے بدلے میں ایک دوسرے کے حوالے کیا جا رہا ہے جس میں وہ ایک شخص کی رہائی کے بدلے میں تقریباً 2000 سے لے کر 4,500 سعودی ریال (600 سے 1000 ڈالر) کے درمیان وصول کرتے ہیں اور لوگوں کو حراست میں رکھ کر تشدد کیا جا رہا ہے۔‘‘

ملمین کا کہنا ہے کہ ’آئی او ایم‘ سے امداد طلب کرنے والے ایتھوپیا کے کئی تارکین وطن فضائی کارروائیاں اور مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو ئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایک واقعات میں اسمگلر ان مردوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں جنہیں سعودی عرب جاتے ہوئے اغوا کر لیا جاتا ہے۔

ملمین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہارن آف افریقہ سے تعلق رکھنے والے غریب تارکین وطن کی یمن آمد جاری ہے، جہاں سے وہ روزگار کے حصول کے لیے سعودی عرب جاتے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ یہ لوگ آسانی سے نشانہ بن رہے ہیں اور ان کے اسمگلروں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ زیادہ ہے جو انہیں تاوان وصول کرنے کے لیے حراست میں رکھتے ہیں۔

ملمین نے کہا کہ یہی طریقہ گزشتہ 10 سالوں کے دوران پورے افریقہ میں دوہرایا جا رہا ہے جہاں مسلح گروہوں کی طرف سے غیر محفوظ افراد کو اغوا کر کے انہیں تاوان ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یہی کچھ اب یمن میں ہو رہا ہے۔

ملمین کا مزید کہنا ہے کہ ان واقعات کا نشانہ بننے والے اگر تاوان ادا نہیں کرتے یا ان کے خاندان اس کے لیے رقم کا بندوبست نہیں کر سکتے تو انہیں تشدد فائرنگ اور مارپیٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‎

XS
SM
MD
LG