رسائی کے لنکس

دہشت گردوں سے نمنٹے کے لیے امریکہ مدد کرے: مالکی


عراق کے وزیراعظم نور المالکی

عراق کے وزیراعظم نور المالکی

عراق کے وزیراعظم نے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ القاعدہ عراقی عوام کے خلاف ’’دہشت گردانہ مہم‘‘ چلا رہی ہے اور وہ اپنے ملک یا پڑوسی شام کو اس گروپ کی آماجگاہ نہیں بننے دینا چاہتے۔

عراق کے وزیراعظم نوری المالکی نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا فائدہ اٹھانے والے دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے امریکہ سے مدد کی درخواست کی ہے، جب کہ سرکردہ امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ مالکی عراقی عوام کے مختلف طبقوں میں خلیج پیدا کر رہے ہیں۔

مالکی بدھ کو اپنے دورہ امریکہ کے دوران نائب صدر جوبائیڈن اور کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹیوں کے ارکان سے ملاقات کر رہے ہیں۔ جمعہ کو ان کی ملاقات صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ہو گی۔

عراق کے وزیراعظم نے امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کے لیے لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں کہا کہ القاعدہ عراقی عوام کے خلاف ’’دہشت گردانہ مہم‘‘ چلا رہی ہے اور وہ اپنے ملک یا پڑوسی شام کو اس گروپ کی آماجگاہ نہیں بننے دینا چاہتے۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق کو اپنی مسلح افواج کے لیے سازوسامان خصوصاً فضائی دفاع کی ضرورت ہے اور ان کا ارادہ ہے کہ وہ صدر اوباما سے عراقی فوج کی استعداد کار بہتر بنانے کے لیے مدد کریں۔

تاہم جان مکین، کارل لیوِن، رابرٹ مینڈیز اور لنڈسی گراہم پر مشتمل امریکی سینیٹروں کے ایک گروپ نے منگل کو صدر اوباما کو لکھے گئے ایک خط میں ’’عراق میں بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش‘‘ کا اظہار کیا۔

انھوں نے تشدد میں اضافے کا الزام مالکی کے طرز حکمرانی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بسا اوقات ’’فرقہ وارانہ اور آمرانہ ایجنڈے‘‘ پر عمل پیرا رہے، جس میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے حقوق غصب ہوتے ہیں، کرد خود کو کمزور تصور کرتے ہیں اور عراق میں تمام دھڑوں کی شمولیت اور جمہوری نظام کے حامی شیعہ مسلمان خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق عراق میں رواں سال تشدد کے واقعات میں 7500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

امریکی سینیٹرز چاہتے ہیں کہ صدر اوباما عراق میں استحکام کے لیے سیاسی و سلامتی کی کوئی ٹھوس حکمت عملی پیش کرنے پر زور دیں۔ انھوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے تعاون میں اضافے کا مطالبہ تو کیا لیکن یہ اس ملک کے تمام فرقوں کو متحد کرنے کے جامع منصوبے کے تحت ہونا چاہیے۔
XS
SM
MD
LG