رسائی کے لنکس

ایران کے حکام اور اقوام متحدہ کی جوہر ی توانائی کے عہدے داروں کے درمیان ویانا میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں اور ایک معروف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ ایران اپنے متازع جوہری پروگرام کے نتیجے میں خود پر عائد پابندیوں کے خلاف کئی بار سمندری آمدورفت کے قوانین کی خلاف ورزیاں کرچکاہے۔

توقع ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کے عہدے دار دو روزہ مذاکرات میں ایران پر یہ زور دیں گے کہ وہ انہیں تہران کے قریب واقع فوجی تنصیب پراچین تک رسائی کی اجازت دیں۔

ایران نے ابھی تک اقوام متحدہ کے عہدے داروں کواس تنصیب کے معائنے کی اجازت نہیں دی ہے ، جس کے بارے میں انہیں شبہ ہے کہ وہاں ایران نے جوہری دھماکوں کے تجربات کے لیے ایک خصوصی کنٹینر تعمیر کیا ہے۔

مغربی سفارت کاروں کا کہناہے کہ انہیں شبہ ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کو وہاں داخلے کی اجازت دینے سے قبل تمام ممکنہ شواہد مٹانے کے لیے وقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

ایران اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے درمیان مذاکرات 23 مئی کو بغداد میں ہونا ہیں ۔

ایک اور خبر کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اپنی پیر کی اشاعت میں کہاہے کہ ایران نے روٹین کے مطابق اپنے بحری آئل ٹینکروں کی کھوج کا سٹیلائٹ نظام اپریل کےشروع میں بند کردیا ہے۔

اخبار نے یہ بھی لکھاہے کہ ایران کا یہ اقدام بحری سفر کے قوانین کی خلاف ورزی ہے جس پر توانائی کے بین الاقوامی ادارے کے معائنہ کار گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ایران زرمبادلہ کے حصول کے لیے زیادہ تر اپنی تیل کی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ امریکی عہدے داروں کا کہناہے کہ اقتصادی پابندیاں ایران کی معیشت کو بہت بری طرح متاثر کررہی ہے اور ایرانی کرنسی کی قیمت تیزی سے گری ہے۔

XS
SM
MD
LG