رسائی کے لنکس

امریکہ اور برطانیہ پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام


امریکہ اور برطانیہ پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام

امریکہ اور برطانیہ پر ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام

ایران نے برطانیہ اور امریکہ پر ملکی معاملات میں مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ تہران کا یہ الزام برطانیہ کے اس مطالبے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے جس میں صدر محمود احمدی نژاد کے متنازعہ دوبارہ انتخابات کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے مظاہرین کی رہائی پر زور دیا گیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے برطانوی اور امریکی عہدے داروں پر الزام لگایا کہ وہ اپنے بیانات کے ذریعے ایران کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کررہے ہیں۔

منگل کے روز اپنی ہفتے وار نیوزکانفرنس میں ، وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ علاقے کی اقوام اب ان دوممالک کی نوآبادیاتی پالیسیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پیر کے روز برطانوی وزارت خارجہ کے عہدے دار ایلسٹیئر برٹ نے کہا تھاکہ ایران اتوار کے روزگرفتار کیے جانے والے مظاہرین کے ساتھ ساتھ دوسال قبل متنازع صدارتی انتخابات کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے جمہوریت نواز کارکنوں کو بھی رہا کرے۔

اتوار کے روز ایرانی حزب اختلاف کے راہنماؤں نے کہا تھا کہ تہران میں پولیس نے ان مظاہرین پر حملے کیے اور انہیں حراست میں لیا جو صدر احمدی نژاد کے متنازع انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کے احتجاج کی دوسری برسی کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔

حزب اختلاف کے لیڈروں نے 2009ء کے انتخابات کی برسی کے منانے کے لیے ایک ریلی کی اپیل کی تھی۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ مسٹر احمدی نژاد نے جعل سازی کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم حکومت صدارتی انتخابات میں کسی قسم کی جعل سازی سے انکار کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG