رسائی کے لنکس

ترکی شام میں خانہ جنگی کو طول دے رہا ہے، ایران کا الزام


شام کے قصبے کوبانی کے نزدیک شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری کے بعد کا ایک منظر

شام کے قصبے کوبانی کے نزدیک شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر امریکی بمباری کے بعد کا ایک منظر

ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر ترک حکومت شام میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبے پر نہ اڑی رہتی تو شام کا بحران تین سال پہلے ہی حل ہوچکا ہوتا۔

ایران نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ شام میں صدر بشار الاسد کی مخالفت اور باغیوں کی حمایت کرکے وہاں ساڑھے تین برس سے جاری خانہ جنگی کو طول دے رہا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'اِرنا' کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ انقرہ حکومت کی جانب سے شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا نتیجہ بدقسمتی سے وہاں جاری خانہ جنگی کے طول پکڑنے اور معصوم شامی شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی صورت میں نکل رہا ہے۔

'اِرنا' کے مطابق ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ اگر ترک حکومت شام میں حکومت کی تبدیلی کے مطالبے پر نہ اڑی رہتی اور دہشت گرد گروہوں کی مدد نہ کرتی تو شام کا بحران تین سال پہلے ہی حل ہوچکا ہوتا۔

ایرانی اہلکار کا یہ بیان ترک صدر رجب طیب ایردوان کے گزشتہ روز کے بیان کا ردِ عمل ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے ایران پر شام میں فرقہ وارانہ تفریق بڑھانے کا الزام عائد کیا تھا۔

ترک اخبارات میں چھپنے والے بیان میں صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام دو طرفہ ملاقاتوں کے دوران تو شام کا مسئلہ مل جل کر حل کرنے پر اتفاق کرتے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ان کا رویہ مختلف ہوتا ہے۔

تہران اور انقرہ دونوں ہی شام کے مسئلے پر متضاد موقف رکھتے ہیں اور تنازع کے مخالف فریقوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایران شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کا قریب ترین اتحادی ہے اور ماضی میں اسد حکومت کو ہر ممکن فوجی اور سیاسی مدد اور حمایت فراہم کرتا رہا ہے۔

اس کے برعکس ترکی صدر اسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے سنی باغیوں کا حامی اور خطے میں ان کا سب سے سرگرم پشتی بان ہے۔

ترکی صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے اور شبہ ہے کہ شام میں باغیوں کے ساتھ مل کر صدر اسد کی فوج کے خلاف لڑنے کے خواہش مند دنیا بھر سے آنے والے جہادی ترکی کے راستے ہی شام پہنچتے ہیں۔

شام کے بحران کے آغاز سے قبل ترک صدر ایردوان، جو اس وقت وزیرِاعظم تھے، اور ایرانی حکومت کے درمیان گاڑھی چھنا کرتی تھی لیکن ایردوان کی شام سے متعلق پالیسی نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں دراڑیں ڈال دی ہیں۔

XS
SM
MD
LG