رسائی کے لنکس

تین امریکی سیاحوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں: ایران

  • ایڈورڈ یرانین

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ایران میں پچھلے ایک سال سے قید تین امریکی سیاحوں کے خلاف اسلامی جمہوریہ کی سیکیورٹی کی خلاف ورزی پر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

ایران نے تین نوجوان مریکی سیاحوں پر اپنے یہ الزامات دہرائے ہیں کہ وہ گزشتہ سال غیر قانونی طورپر ملک میں داخل ہوئے تھے اور یہ کہ انہیں ایسا کرنے کی بناء پر مقدمے کا سامنا کرنا چاہیے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان رامین مہمن پرست نے ان کے خلاف جاسوسی کےپرانے الزامات دوہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ممکن ہے انہوں نے ایرانی سیکیورٹی کو جان بوجھ کر توڑا ہو ۔

ترجمان نے سیاحوں کی رہائی کے سلسلے میں کئی امریکی اور یورپی شہروں میں حالیہ مظاہروں کو ،سیاسی دباؤ اور میڈیا کی فریب کاری قراردیتے ہوئے اس کی مذمت کی ۔

ایران کے سرکاری ریڈیو نے مہمن پرست سے یہ بیان بھی منسوب کیا کہ امریکہ نے ایرانیوں کی ایک خاصی بڑی تعداد کو بقول ان کے،سیاسی بنیادوں پر قائم گئے مقدمات کی بناء پر جیلوں میں رکھا ہوا ہے ۔

پچھلے سال اپنے ایک انٹرویو میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے امریکہ سے تین سیاحوں کا تبادلہ ان ایرانی قیدیوں کے ساتھ کرنے کا مطالبہ کیاتھا جو ان کے بقول امریکہ کے پاس ہیں۔ امریکہ سیاسی بنیادوں پر کسی بھی ایرانی کی حراست سے انکار کرچکاہے۔

پچھلے ہفتے امریکی صدر براک اوباما اور وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے ایران پر تین امریکی سیاحوں کی رہائی پر زور دیا تھا۔ وزیر خارجہ کلنٹن نے کہا تھا کہ تہران کو درست اقدام کرتے ہوئے انہیں رہا کردینا چاہیے۔ انہوں نے سیاحوں کی قید کی پہلی برسی کو ایک افسوس ناک لمحہ قرار دیا۔

تین امریکی سیاحوں جاش فیٹل، شین باؤئر اور سارا شورڈ کی ماؤں نے 31 جولائی 2009ء میں ایرانی سرحدی محافظوں کی جانب سے اپنے بچوں کی گرفتاری کے خلاف اختتام ہفتہ نیویارک میں ایک مظاہرے کی قیادت کی تھی۔ ایران کا یہ دعویٰ ہے کہ امریکی سیاح اس کی سرحدی حدود میں داخل ہوئے تھے، تاہم کئی کرد عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہیں عراق میں پکڑا گیاتھا۔

سارا شوڈر کی ماں نورا شوڈر نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے ایرانی مشن کے قریب ایک عوامی احتجاج کے دوران ایرانی عہدے دار وں سے ملنے میں دشواری کی شکایت کی۔

ان کا کہناتھا کہ یہ ایرانی مشن ہے ، ایرانی سفیر عمارت میں کہیں اوپر ہیں۔ ہمارے لیے ایرانی حکومت کے کسی بھی عہدے دار سے بات کرنا انتہائی دشوار ہے۔ بلکہ ناممکن ہے۔

شین باؤئر کی والدہ سنڈی ہکی نے ایرانی راہنماؤں سے رحمدلی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر عمل نہ کرنے کی ایک جذباتی اپیل کی۔انہوں نے کہا یہ ایک غیر منصفانہ قید ہے۔ ہمارے بچوں کے خلاف آپ کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ان کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ ہر چیز کے ساتھ بہت ہی غیر منصفانہ اندا ز میں نمٹا جارہاہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ رحمدلی سےکام لیں ، ہمارے بچوں کو آزاد کریں اور انہیں سیاست کا نشانہ بننے سے بچائیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ان کے تبصروں کا جواب دینے کے لیے سامنے آئے ، انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں ، لیکن ان تینوں امریکی سیاحوں کے ساتھ ہمدردانہ اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق سلوک کیا جارہاہے۔ سیاحوں کی مائیں ان دعوؤں کی نفی کرتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں کسی الزام کے بغیر قید میں رکھا جارہا ہے اور انہیں اپنے وکیلوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی۔

XS
SM
MD
LG