رسائی کے لنکس

تنطیم نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کرے اور ان کو فوری رہا کرے۔

واشنگنٹن پوسٹ کے ایک رپورٹر سمیت تین امریکی شہریوں کو بظاہر ایران میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

صحافیوں کے حقوق کے لیےکام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم’ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس' نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے دو لوگوں میں واشنگٹن پوسٹ کے تہران میں نامہ نگار جیسن ریزین اور ان کی اہلیہ یگانہ صالحی جو متحدہ امارات سے شائع ہونے والے اخبار نیشن کی نامہ نگار ہیں، شامل ہیں۔

دیگر دو امریکی شہریوں کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی لیکن واشنگٹن پوسٹ کے مطابق یہ لوگ جزوقتی فوٹو جرنلسٹس ہیں۔

تنطیم نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ان کی گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کرے اور ان کو فوری رہا کرے۔

واشنگٹن پوسٹ کے فارن ایڈیٹر ڈوگلس جیہل نے کہا کہ "ہمیں قابل اعتماد اطلاعات ملی ہیں کہ واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار جیسن ریزین اور ان کی اہلیہ یگانہ صالحی کو منگل کی شام حراست میں لیا گیا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ہمیں اس خبر سے نہایت دکھ پہنچا ہے اور ہمیں جیسن اور یگانہ اور دو دوسرے امریکیوں کی زندگی کے بارے میں کافی تشویش ہے۔ جیسن ایک تجربہ کار اور باخبر صحافی ہیں اور ان کا تحفظ ضروری ہے اور ان کا کام ہی ان کے لیے عزت کا باعث ہے"۔

واشنگٹن پوسٹ کے بیان کے مطابق ریزین کے پاس ایران اور امریکہ کی دہری شہریت ہے اور ان کی اہلیہ ایرانی شہری ہیں اور انہوں نے امریکہ میں مستقل سکونت کے لیے درخواست دی ہوئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نےکہا ہے کہ واشنگٹن صحافیوں کی گرفتاری کے بارے میں آنے والی اطلاعات کے بارے میں آگاہ ہے۔

ایران نے ابھی تک صحافیوں کی مبینہ گرفتاری کے بارے میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔

XS
SM
MD
LG