رسائی کے لنکس

ایرانی حکومت کا ناقد گرفتار


ایرانی حکومت کا ناقد گرفتار

ایرانی حکومت کا ناقد گرفتار

ایران میں حکومت مخالف ویب سائیٹس نے خبر دی ہے کہ حکام نے سخت گیر صدر محمود احمدی نژاد کے ایک اہم ناقد کو، جو کہ ایک قدامت پسند مذہبی رہنما کے بیٹے بھی ہیں، گرفتار کرلیا ہے۔

مہدی خازیلی ایک معالج ہیں اور حکومت مخالف بلاگ لکھنے کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ انھیں بدھ کے روز ”قومی سلامتی کے خلاف اور رائے عامہ کو خراب کرنے“ کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد تہران کی جیل میں ان سے پوچھ گچھ کی گئی۔

حالیہ برسوں میں خازیلی نے اپنے بہت زیادہ پڑھے جانے والے بلاگز میں صدر احمدی نژاد کے خلاف کھل کر لکھا جسے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی توجہ بھی حاصل ہوئی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قراردیے جانے کے بعد ان کی تحریروں میں مزید تندی آگئی تھی۔

خازیلی ایران کی مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ ابلغیثم خازیلی کے بیٹے ہیں۔ یہ مجلس ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے کاموں کی نگرانی کرتی ہے۔ خازیلی کے والد نے اپنے بیٹے کے اقدامات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء ایران میں سنگساری کی سزا کے حوالے سے دنیا کی توجہ حاصل کرنے والی سکینہ محمد اشتیانی کے وکیل نے یورپی یونین اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزی کرنے پر ایرانی رہنماؤں کے غیر ملکی دوروں پر پابندی لگائیں۔

جولائی میں ایران سے فرار ہوکر ناروے آنے والے وکیل محمد مصطفائی نے جمعرات کو برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی ذیلی کمیٹی کے سامنے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ایران کے خلاف صرف اقتصادی نہیں بلکہ سیاسی پابندیاں بھی لگانی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG