رسائی کے لنکس

ایران: مردوں کے والی بال مقابلوں میں خواتین تماشائیوں پر پابندی


فائل فوٹو

فائل فوٹو

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے یہ مقابلے شروع ہونے سے قبل کہا تھا کہ خواتین پر ان مقابلوں کے دیکھنے پر پابندی ایف آئی وی بی کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے۔

والی بال کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف والی بال (ایف آئی وی بی) نے کہا ہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے ختم ہونے والی مردوں کی انٹرنیشنل بیچ والی بال چمپئین شپ میں خواتین کی بطور تماشائی شرکت پر پابندی عائد کر دی تھی۔

’ایف آئی وی بی‘ نے کہا کہ اس نے اسی شرط پر ایران کی والی بال کی فیڈریشن کو مردوں کی والی بال چمپئین شپ منعقد کرنے کی اجازت دی تھی کہ وہ ایران کے کش جزیرے پر منعقد ہونے والے پانچ روزہ مقابلوں میں خواتین کو بطور تماشائی شرکت کی اجازت دے گی۔

ایران میں راویتی طور پر خواتین کھیل کے میدان میں مردوں کے مقابلے دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔

امریکی خبررساں ادارے 'اے پی' نے ایف آئی وی بی کے ترجمان رچرڈ بیکر کے حوالے سے بتایا کہ خواتین تماشائیوں کی اسٹیڈیم میں داخل ہونے پر پابندی کی وجہ ان کے بقول ایران میں"سیکورٹی کے (معاملات کے) متعلق غلط فہمیاں" تھی۔

انہوں نے کہا کہ خواتین یہ مقابلے ایک کیفے میں بیٹھ کر دیکھ سکتی تھیں جہاں سے کھیل کا میدان نظر آتا ہے۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے یہ مقابلے شروع ہونے سے قبل کہا تھا کہ خواتین پر ان مقابلوں کے دیکھنے پر پابندی ایف آئی وی بی کے اپنے آئین کی خلاف ورزی ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق ایران میں 2012 میں خواتین پر مردوں کے والی بال مقابلے دیکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس سے قبل کھیلوں اور نوجوانوں کے امور کی وزارت نے 1979 میں خواتین پر اسٹیڈیم میں مردوں کے فٹ بال مقابلے دیکھنے کی پابندی عائد کی تھی۔

اس پابندی پر عالمی سطح پر اس وقت توجہ مبذول ہوئی جب ایران نے ایک ایرانی نژاد برطانوی خاتون کو ایران اور اٹلی کی مردوں کی ٹیموں کے مابین کھیلا گیا والی بال میچ دیکھنے سے روک دیا تھا۔

اس خاتوں کو کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم چند دنوں کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اسے ایران کے نظام حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم بعد ازاں انہوں نے سزا کے خلاف اپیل دائر کی جس کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس اپیل کی حتمی سماعت ابھی ہونا باقی ہے۔

XS
SM
MD
LG