رسائی کے لنکس

برازیل کے صد ر کا دورہ ایران

  • مائیکل بومین

برازیلین صدرلَولا سلوا

برازیلین صدرلَولا سلوا

ہفتے کے روز برازیل کے صدر لوئیزا ایناسیو لولا ڈاسلوا تہران کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔ گذشتہ سال ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے برازیل کا دورہ کیا تھا۔ توقع ہے کہ اس دورے میں بیشتر توجہ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو دی جائے گی۔ بظاہر ایران اور برازیل میں سوائے اس کے اور کوئی بات مشترک نہیں کہ دونوں ملکوں کے صدور عالمی امور میں امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف ہیں۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ صدر لَولا کا یہ دورہ ایک قسم کا جوا ہے۔ اگر وہ کامیاب ہوگئے تو اقوامِ متحدہ کی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعلقات میں تعطل ختم ہو جائے گا۔ بین الاقوامی برادری نے اس سلسلے میں اب تک جو کوششیں کی ہیں وہ ناکام رہی ہیں۔ صدر لَولا نے کہا ہے’’یہ دانشمندی نہیں ہے کہ ایران کے لیے سارے راستے بند کر دیے جائیں۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔ میں نے یہ بات کھل کر کہی ہے کہ میں ایران کے لیئے وہی کچھ چاہتا ہوں جو میں برازیل کے لیے چاہتا ہوں یعنی نیوکلیئر توانائی کا پُر امن مقاصد کے لیئے استعمال۔‘‘

ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے بائیں بازو کے یہ سیکولر ڈیموکریٹ ایک جابرانہ مذہبی حکومت کےہمرکاب ہو رہے ہیں۔ بے اندازہ نظریاتی اختلافات کے باوجود صدر لَولا اور احمدی نژاد میں ایک بات مشترک ہے۔ یہ دونوں عالمی امور میں ، خاص طور سے اقوامِ متحدہ میں، دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کے غلبے کو پسند نہیں کرتے۔ صدر احمدی نژاد نے کہا ہے’’اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ 60 برس کے بعد بھی سلامتی کونسل دنیا میں سکیورٹی قائم نہیں کر سکی ہے اور اس کی اصل وجہ ویٹو کااختیار ہے جس کے ذریعے بعض ملکوں کو طاقت کی اجارہ داری حاصل ہو گئی ہے ۔‘‘

ایران کے خلاف زیادہ سخت پابندیاں لگانے کی امریکی کوششوں کو برازیل نے مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں قائم وڈرو لسن سینٹر کےپاؤلو سوتیرو کہتے ہیں کہ اپنے عہدصدارت کے آخری دنوں میں، صدرلَولا چاہتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا کارنامہ انجام دیں جس سے ان کا ورثہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے اور عالمی طاقت کی حیثیت سے برازیل کا لوہا مان لیا جائے۔ انھوں نے کہا’’ان کا خیال ہے کہ برازیل امن مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کے تصفیے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو بین الاقوامی حلقوں میں صدر لَولا کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے گا اور برازیل کو جسے عالمی سیاست میں خاصا اہم مقام حاصل ہو گیا ہے اور زیادہ اہم ملک سمجھا جانے لگے گا۔‘‘

ایران کو اس بات پر آمادہ کرنے سے کہ اسے نیت نیتی کے ساتھ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ساتھ کام کرنا چاہیئے، اس دلیل کو بھی تقویت ملے گی کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں برازیل کو برابر کا درجہ دیا جانا چاہیئے ۔ بہت سے لوگوں کا خیا ل ہے کہ سلامتی کونسل جو دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم کی گئی تھی ، اپنی افادیت کھو چکی ہے۔

لیکن سوتیرو کا خیال ہے کہ صدرلَولا جو کچھ کر رہے ہیں ، اس میں کچھ خطرات بھی ہیں۔’’متبادل منظر نامہ یہ ہے کہ احمدی نژاد اور ایرانی حکومت صدر لَولا کے دورے کو یہ دکھانے کے لیے استعمال کرے گی کہ بین الاقوامی سطح پر وہ الگ تھلگ نہیں ہیں۔ برازیل کی ساکھ بہتر ہونے کے بجائے اور کم ہو جائے گی اور صدر لَولا کا تاثر بھی خراب ہوجائے گا۔‘‘

گذشتہ سال شہری حقوق کی جد وجہد کرنے والوں نے مسٹر احمدی نژاد کے برازیل کے دور ے پر احتجاج کیا تھا اور ایرانی لیڈر کا استقبال کرنے پر مسٹرلَولا پر تنقید کی تھی ۔لیکن مشرق وسطیٰ کے ایک تجزیہ کار، ایلکس واتنکا کے خیال میں ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے پر صدر لَولا کے لیے سیاسی خطرات بہت کم ہیں۔’’سچی بات یہ ہے کہ صدر لَولا کسی بڑ ی چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ بنیادی طورپر انھوں نے یہ کہا ہے کہ ایرانیوں کو ہم سے یہ کہنا پڑے گا کہ جہاں تک ان کے نیوکلیئر پروگرام کا تعلق ہے، وہ ہتھیار نہیں بنا رہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہے جو ایرانی مسلسل کہہ رہے ہیں۔ تو اگر آپ اس پیمانے سے ناپیں تو ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ یہ دورہ کامیاب رہے گا۔ لیکن اگر ہم سوال کو بدل دیں اور پوچھیں کہ کیا صدر لَولا تہران گئے اور انھوں نے ایرانیوں کو قائل کر دیا کہ انہیں یورینیم کی افژودگی ترک کردینی چاہیئے تو پھر یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

ایرانی صدر

ایرانی صدر

اس کے باوجود، واتنکا کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مسٹر لَولا کا رابطہ مفید ثابت ہو سکتا ہے اگر یہ دوسرے ملکوں کے ساتھ مِل کر کیا جائے ۔ ’’اگر ماسکو، بیجنگ سے دوسرے لوگ بھی تہران جائیں اور ایرانیوں کو قائل کریں کہ یہ محض امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی نہیں ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے بارے میں تشویش ہے تو عین ممکن ہے کہ تہران میں مزید کچھ لوگوں کی سوچ بدل جائے اور بالآخر اجتماعی طور پر وہ یہ طے کریں کہ ہمیں بات مان لینی چاہیئے ۔‘‘

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ برازیل کے رابطوں کا اس حد تک خیر مقدم کرتے ہیں کہ صدر لَولا اس بات پر اصرار کریں کہ ایران کو انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی ہدایات کی پوری طرح تعمیل کرنی چاہیئے ۔

XS
SM
MD
LG