رسائی کے لنکس

ایرانی سفارت خانہ بندکرنے کا حکم

  • عادل زیب

ایرانی سفارت خانہ بندکرنے کا حکم

ایرانی سفارت خانہ بندکرنے کا حکم

برطانوی سفارت خانے پر حملہ حکومتی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا: ولیم ہیگ کا پارلیمان سے خطاب

برطانیہ نے لندن میں ایرانی سفارتخانہ فوری طورپر بند کرنے اور ایرانی سفارت کاروں کو آئندہ 48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے منگل کے روز تہران میں احتجاجی مظاہرین کی جانب سے برطانوی سفارت خانے پر حملے اور توڑ پھوڑ پر شدید ردِ عمل کا اظہار کیا اور واقعے کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے ایرانی اہل کاروں کوجلد از جلد برطانیہ چھوڑنے کا حکم جاری کیا۔

ولیم ہیگ کے الفاظ میں برطانیہ میں ایرانی اہل کاروں کو فوراً اپنا سفارت خانہ بند کرنے اور ایرانی سفارت کاروں اور اہل کاروں کو 48گھنٹوں میں برطانیہ چھوڑنے کے حکم کے بارے میں مطلع کردیا گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کیےجانے کے فیصلے پر ایران نے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا تھا اور منگل کے روز سینکڑوں احتجاجی مظاہرین نے تہران میں برطانوی سفارت خانے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تھی۔

امریکہ سمیت یورپی ممالک نے تہران میں برطانوی سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کی تھی اور برطانیہ سمیت ناروے نے تہران میں اپنے سفارت کاروں کو فوری طور پر بند کردیا تھا۔

واقع کے بعد ایرانی حکومت نے برطانیہ سے رابطہ کرکے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

ہیگ نے مؤقف اختیار کیا کہ برطانوی سفارت خانے پر حملہ حکومتی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

برطانوی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں کررہا۔ لیکن، اگر کوئی ملک اپنی سرزمین پر برطانوی سفارتی عملے کے لیے کام کرنا نا ممکن بنادے، تو اُنہیں بھی اپنے سفارت خانے کو برطانیہ میں کام کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیئے۔

اِس سے قبل برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی برطانوی سفارت خانے پر حملے کوناقابلِ قبول بتاتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی سفارتی عملے کی حفاظت میں ناکامی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG