رسائی کے لنکس

ایران کا بوشہر جوہری پاور پلانٹ

  • آندرے نسنیرا

بو شہر نیوکلیئر پاور پلانٹ

بو شہر نیوکلیئر پاور پلانٹ

بوشہر کے کمپیوٹر نظام میں بھی مسائل کھڑے ہوگئے، لیکن ایران کے عہدے داروں نے اس بات کی تردید کی کہ یہ مسئلہ Stuxnetکی کیفیت کے باعث ہوا ہے، جو کہ کمپیوٹر کا جدید وائرس ہے اور جس کے بارے میں مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصدایران میں تنصیبات کو ہدف بنانا تھا

روسی سائنسداں جنوبی ایران کے ایک نیوکلیئر ری ایکٹر میں افزودہ یورینیم ڈال رہے ہیں۔ اِس عمل کے ذریعے متوقع طور پرتنصیب مہینوں کے اندر اندر مکمل طور پر چالو ہو جائے گی۔

حالانکہ بوشہر میں ایران کا پہلا سب سے بڑانیوکلیئر پاور پلانٹ ہے اور اس کی تاریخ تین دہائیوں پر محیط ہے، جو کہ ایران کی موجودہ اسلام پسند حکومت کے اقتدار میں آنے سے بہت پہلے کی بات ہے۔

اِوان اولرچ، فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس سے وابستہ ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام شنشاہہ کے زمانے سے تعلق رکھتا ہے، اور اِسے امریکہ اور مغربی طاقتوں کی پوری حمایت حاصل تھی، حالانکہ شاہ کے دور میں بھی ہمیں یہ مسئلہ درپیش تھا ، کہ ہوسکتا وہ نیوکلیر ہتھیار بنانا چاہتے ہوں اور ہمیں اُس پر کچھ تشویش بھی تھی۔

جرمن کمپنی سیمینز کے ساتھ معاہدے کے نتیجے میں کاریگروں نے 1975ء میں بوشہر تنصیب کی عمارت تعمیر کرنا شروع کی۔ لیکن چار برس بعد پراجیکٹ کو روک دیا گیا۔

اولرچ نے کہا کہ شہنشاہ کی حکومت کے اختتامی دورمیں اُنھیں مالی مسائل تھے، اور جب اسلامی انقلاب واقع ہوا اور ملاؤں نے اقتدار سنبھالا تو اُنھوں نے اِس پروگرام کو منسوخ کردیا کیونکہ اُن کے خیال میں یہ مغرب کے لیے ایران سے پیسے بٹورنے کا بہانا تھا۔

بوشہر 1995ء تک خالی پڑا رہا جب روسیوں نے اِس کی تعمیر سنبھالی۔ یہ جوہری توانائی کا پلانٹ 1999ء تک مکمل ہوجانا چاہیئے تھا۔ لیکن تجزیہ کاروں نے بتایا کہ مالی مسائل، تکنیکی نقائص اور معاہدے کے تنازعات کے ساتھ ساتھ تہران اور ماسکو کے ساتھ پریشان کُن تعلقات کے باعث منصوبے کی تکمیل سستی کا شکار رہی۔

گذشتہ اگست میں روس نے ایران کو جوہری ایندھن بھیجا اور تجزیہ کاروں نے محسوس کیا کہ ری ایکٹر کے اندر ایندھن ڈالنے کا عمل اب ناگزیر ہے۔ تاہم ری ایکٹر کے تلے میں شگاف کے باعث اِس عمل میں کئی ماہ کی تاخیر ہوگئی۔

بوشہر کے کمپیوٹر نظام میں بھی مسائل کھڑے ہوگئے، لیکن ایران کے عہدے داروں نے اس بات کی تردید کی کہ یہ مسئلہ Stuxnetکی کیفیت کے باعث ہوا ہے، جو کہ کمپیوٹر کا جدید وائرس ہے اور جس کے بارے میں مغربی ماہرین کا کہنا ہے کہ اِس کا مقصدایران میں تنصیبات کو ہدف بنانا تھا۔

XS
SM
MD
LG