رسائی کے لنکس

امریکی صحافی پر ایران کے الزامات مضحکہ خیز ہیں: واشنگٹن پوسٹ


جیسن رضائیان

جیسن رضائیان

واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ رضائیان کی حراست امریکہ اور شاید باقی دنیا میں ایران کے تشخص کے لیے اچھی نہیں۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر نے کہا ہے کہ ایران میں قید اخبار کے نمائندے کے خلاف جاسوسی کے اور دیگر الزامات ’’مضحکہ خیز‘‘ اور ’’احمقانہ‘‘ ہیں۔

وائس آف امریکہ کی فارسی سروس کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹن بیرن نے کہا کہ اخبار کے نمائندے جیسن رضائیان ایک ’’بے گناہ اور اچھے انسان ہیں جو کسی بھی دوسرے انسان کی طرح آزادی کے حقدار ہیں۔‘‘

رضائیان اپنی اہلیہ یگانہ صالحی کے ہمراہ گرفتار کیے جانے سے قبل ایران میں واشنگٹن پوسٹ کے لیے 2012 سے کام کر رہے تھے۔ یگانہ صالحی بھی صحافی ہیں۔ انہیں بعد میں رہا کر دیا گیا تھا مگر ایران اور امریکہ کی دہری شہریت رکھتے والے رضائیان نو ماہ سے جیل میں قید ہیں۔

بیرن نے فارسی سروس کی ڈائریکٹر ستارہ درخشیش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ صرف ایک رپورٹر ہیں اور ان کی کبھی بھی کسی خفیہ معلومات تک رسائی نہیں تھی۔"

’’ان کی تمام خط و کتابت معمول کے ای میل ذرائع سے ہوتی تھی، ہم سب کو معلوم ہے کہ ایرانی حکومت اس کی باقاعدگی سے نگرانی کرتی ہو گی۔ وہ اس کی نقل و حرکت کی بھی نگرانی کرتے ہوں گے مگر پھر بھی وہ ایران میں ایک طویل عرصے سے رپورٹر کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ ’’انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی کہ وہ کسی طرح بھی ایرانیوں سے بچ کر کوئی کام کریں، اور ان کی کسی خفیہ معلومات تک کوئی رسائی نہیں تھی۔ اس لیے یہ الزامات مضحکہ خیز اور احمقانہ ہیں اور ان کی قید صریح نا انصافی ہے۔‘‘

بیرن نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کو پہلے سے کوئی اطلاع نہیں تھی کہ رضائیان کو 2014 میں گرفتار کر لیا جائے گا اور انہیں ابھی تک یہ نہیں معلوم کہ انہیں کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔ بیرن کا کہنا تھا کہ وہ ایران میں زندگی اور ثقافت پر رپورٹنگ کرتے تھے اور ایرانی حکام نے ان پر متعصبانہ خبریں تیار کرنے کا الزام نہیں لگایا۔

ایرانی حکام کا کہنا کہ ہے رضائیان پروپیگنڈا کرنے میں مصروف تھے۔ تاہم بیرن نے کہا کہ وہ اپنی خبروں کے ذریعے پروپیگنڈا نہیں کرتے تھے بلکہ صدر روحانی اور وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ان کی گرفتاری سے کچھ دیر بعد ہی کہا تھا کہ وہ ایک اچھے رپورٹر ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کا کہنا ہے کہ رضائیان کی حراست امریکہ اور شاید باقی دنیا میں ایران کے تشخص کے لیے اچھی نہیں۔

خیال ہے کہ زندانِ اوین میں قید 39 سالہ رضائیان کی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ بیرن نے کہا کہ اخبار نے انسانی ہمدردی کی بنیادوں اور اس بنا پرکہ رضائیاں نے کچھ غلط نہیں کیا، ایران سے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG