رسائی کے لنکس

ایران کے خلاف خفیہ جنگ میں تیزی

  • گیری تھامس

ایران کے خلاف خفیہ جنگ میں تیزی

ایران کے خلاف خفیہ جنگ میں تیزی

ایران پر اس کے نیوکلیئر پروگرام کی وجہ سے مغربی ملکوں کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پیر کے روز یورپی یونین نے ایران کے تیل پر پابندی لگانے اور اس کے سینڑل بینک کے اثاثے منجمد کرنے پر اتفاق کیا۔ اس کے جواب میں، ایرانی عہدے داروں نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کی اہم آبی گزر گاہ کو بند کرنے کی دھمکی دی۔ دنیا کےکُل تیل کا پانچواں حصہ اسی راستے سے ہو کر مختلف ملکوں تک پہنچتا ہے۔ ایران کے خلاف خفیہ کارروائیاں بھی ہو رہی ہیں اور ایران ان کا دباؤ محسوس کر رہا ہے۔

ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے وابستہ کئی لوگوں کی یکے بعد دیگرے ہلاکت، ایران کی فوجی تنصیبات پر سلسلے وار دھماکے جن کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی، اور اس کے کمپیوٹرز میں ایک انتہائی خطرناک وائرس، تجزیہ کاروں کے خیال میں، یہ سب اس بات کی علامتیں ہیں کہ ایران کی خلاف خفیہ جنگ میں تیزی آ گئی ہے۔تازہ ترین کیس ایران کے نیوکلیئر سائنسدان مصطفی احمدی روشن کا ہے جو 11 جنوری کو ایک مقناطیسی بم سے ہلاک ہوگئے جو ان کی کار میں لگا دیا گیا تھا۔

انٹیلی جنس کی پرائیویٹ فرم اسٹراٹفار میں مشرقِ وسطیٰ کی تجزیہ کار ریوا بھالا کہتی ہیں کہ پالیسی ساز خفیہ کارروائیوں کا راستہ اس وقت اختیار کرتےہیں جب وہ سفارتکاری اور جنگ کے درمیانی مرحلے میں ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’’پالیسی بنانے والے لوگ خفیہ کارروائیوں کی مبہم راہ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب ان کے پاس صورتِ حال سے نمٹنے کے بہتر طریقے موجود نہ ہوں۔ خفیہ کارروائیوں کی مہم پر برسوں سے کام ہو رہا تھا، اور ا ب ہم اس میں تیزی دیکھ رہے ہیں کیوں کہ امریکہ اور اس کے تمام اتحادیوں کو ایران کی طاقت پر تشویش ہے اور وہ اسے محدود کرنے کے طریقے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

گزشتہ دو برسوں میں، ایران کے مزید تین سائنسداں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کسی نے کھلے عام ان کی موت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

لیکن ایران نے ان ہلاکتوں کا الزام امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر عائد کیا ہے۔ امریکہ نے واضح الفاظ میں اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے اور برطانیہ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسرائیلی عہدے داروں نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ ہلاکت کے ان واقعات میں کون ملوث تھا، لیکن ایک اسرائیلی ترجمان نے کہا کہ انہیں اس ہلاکت پر کوئی افسوس نہیں ہے۔

خفیہ کارروائی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ واقعات کا رخ بدل دیا جائے اور کسی کو یہ پتہ نہ چلے کہ یہ کارروائی کِس کی ہے۔

عام طور سے ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اس قسم کی کارروائیاں کرتی ہیں اور ان میں بیرونی ملکوں میں انتخابا ت کا رُخ بدلنے کی کوششوں سے لے کر سبو تاژ اور قتل تک کی وارداتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس قسم کی سرگرمیوں کا بھانڈا پھوٹ جانے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے بیلفر سینٹر فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل افیئرز میں سینیئر فیلو،ول ٹوبے کہتے ہیں کہ جو کوئی بھی قتل کی یہ وارداتیں کر رہا ہے، وہ خطرہ مول لینے کو تیار ہے ۔ ان کے مطابق ’’میرے خیال میں جو کوئی بھی ایران کے خلاف قتل کی یہ مہم چلا رہا ہے، وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ معاملات کافی سنگین ہو چکے ہیں اور یہ انتہائی اقدامات ضروری ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں خطرہ اور بڑھ جائے گا۔‘‘

دی واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے مائیکل آئیزن سٹیڈ کہتے ہیں کہ ان حالات میں ذہن اسرائیل کی طرف جاتا ہے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ اگر وہ فوجی طاقت استعمال کیے بغیر ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم نہیں کر سکتا، تو اس کی پیش رفت کو سست ضرور کر دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میرے خیال میں اسرائیلی جانتے ہیں کہ وہ خفیہ کارروائی سے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو روک نہیں سکتے۔ یہ ترکیب عراق کے پروگرام کے سلسلے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ انہیں ہدف بنا کر قتل کرنے کا جو تجربہ ہے، اس سے انھوں نے یہ سیکھا ہے کہ آپ بعض لوگوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے سے دہشت گردی کو بھی نہیں روک سکتے۔ لیکن وہ خفیہ کارروائیوں سے تھوڑا بہت فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں تا کہ ایران کا پروگرام سست پڑ جائے اور پابندیوں کو اپنا اثر دکھانے کے لیے وقت مل جائے کیوں کہ پابندیوں کا اثر ہونے میں وقت لگتا ہے۔‘‘

چند ہی تجزیہ کار ایسے ہوں گے جو یہ سمجھتے ہوں کہ خفیہ کارروائیوں سے ایران کے لیڈر اپنے نیوکلیئر عزائم سے باز آ جائیں گے۔ لیکن ایران بھی اپنی جاسوسی کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

گزشتہ سال کے آخر میں، امریکہ نے اعلان کیا کہ ایران کی ایک سازش کا پتہ چلا ہے جس کے تحت امریکہ میں سعودی سفیر کو قتل کیا جانا تھا۔ لیکن اس سازش کی بہت سی تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

وقتاً فوقتاً ایران ایسے لوگوں کو گرفتار کرلیتا ہے جو ایران کے دورے پر جاتے ہیں اور ان پر جاسوسی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اکثر ان لوگوں کو دوسرے معاملات میں سودے بازی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس مہینے کے شروع میں، ایک سابق میرین فوجی، امیر حکمتی کو ایک ایرانی عدالت نے جاسوسی کے الزام میں موت کی سزا سنائی۔ اس کے گھرانے کے افراد اور امریکی حکومت نے جاسوسی کے الزامات سے انکار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG