رسائی کے لنکس

عرب ملک یمن پر حملے فوراً بند کریں، ایران کا مطالبہ


یمن کے دارالحکومت صنعا کے نزدیک ایک مقام پر سعودی طیاروں کی بمباری کے بعد کا منظر

یمن کے دارالحکومت صنعا کے نزدیک ایک مقام پر سعودی طیاروں کی بمباری کے بعد کا منظر

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے عرب ملکوں سے فضائی حملے فوراً روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے یمن کی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

ایران نے یمن پر سعودی عرب کی قیادت میں جاری فضائی حملوں کا سلسلہ فوراً بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے وہ یمن کے بحران پر قابو پانے کے لیے "ہر ممکن اقدامات" کرے گا۔

سعودی عرب اور اس کے عرب اتحادیوں کے فوجی طیاروں نے جمعرات کو یمن کے مختلف علاقوں میں حوثی باغیوں کے دستوں اور ٹھکانوں پر بمباری کی ہے جنہیں مبینہ طور پر ایران کی حمایت حاصل ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے عرب ملکوں سے فضائی حملے فوراً روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے یمن کی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کےشہر لوزانے سے جاری اپنے بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے ہر ممکن کوششیں کرے گا۔

اس سے قبل جمعرات کو ایرانی وزارتِ خارجہ نے بھی یمن کے حوثی جنگجووں کے خلاف عرب ملکوں کی فضائی کارروائیاں فوراً بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ یمن کے داخلی بحران میں بیرونی فوجی مداخلت صورتِ حال کو مزید پیچیدہ کردے گی اور اس سے بحران کے پرامن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی "جارحیت ایک خطرناک قدم اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی ہے" جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو فروغ ملے گا۔

یمن کے شیعہ زیدی قبائل سے تعلق رکھنے والے باغیوں نے یمن کے صدر عبدالرب منصوری ہادی کی حکومت کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے بغاوت کر رکھی ہے جنہیں عرب ممالک اور عالمی طاقتیں یمن کا قانونی حکمران تسلیم کرتے ہیں۔

باغی گزشتہ سال ستمبر سے دارالحکومت صنعا اور ملک کے وسیع شمالی اور وسطی علاقے پر قابض ہیں۔ گزشتہ ماہ باغی رہنماؤں نے پارلیمان کو تحلیل اور حکومت کو برخواست کرنے کےبعد اقتدار بھی خود ہی سنبھال لیا تھا۔

باغی دستوں نے رواں ہفتے جنوبی شہر عدن کی جانب پیش قدمی شروع کی تھی جہاں صدر ہادی نے گزشتہ ماہ صنعا سے فرار کے بعد پناہ لے رکھی ہے۔

بدھ کو باغیوں نے عدن کے نواحی علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا اور ایک فوجی ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد تحویل میں لیے جانےو الے جنگی طیاروں کے ذریعے شہر پر بمباری بھی کی تھی۔

باغیوں کی پیش قدمی کے بعد پیر کو یمن کے وزیرِ خارجہ ریاض یاسین نے خطے کے عرب ملکوں سے یمن فوجی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حوثی باغیوں کو ملک پر قبضے سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ایران بعض عرب اور یمنی حکام کے ان الزامات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کو اسلحہ اور تربیت فراہم کر رہا ہے۔

تاہم ایرانی حکومت حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت پر قبضے کی مذمت سے بھی گریز کرتی آئی ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ یمنی بحران کے حل کے لیے ضروری ہے کہ صدر ہادی منصور حکومت چھوڑ دیں۔

XS
SM
MD
LG