رسائی کے لنکس

ایران کی چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں کردار کی خواہش


گوادر کی بندرگاہ (فائل فوٹو)

گوادر کی بندرگاہ (فائل فوٹو)

فیڈریشن کے نائب صدر ظفر بختاوری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اقتصادی راہداری میں ایران کی دلچپسی کی وجہ اس منصوبے کی خطے کے لیے افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔

ایران نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستانی معیشت میں فروغ کے لیے معاونت کی اہلیت رکھتا ہے۔

یہ بات پاکستان کے لیے ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے اسلام آباد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے دفتر کے دورے کے موقع پر کہی۔

تقریباً 46 ارب ڈالر کے اقتصادی راہدای منصوبے کو چین اور پاکستان کی قیادت خطے کے لیے قسمت بدل دینے والا ایک منصوبہ قرار دیتی ہے جس میں چین کے شہر کاشغر سے پاکستان کے جنوب مغربی ساحلی شہر گوادر تک مواصلات اور صنعتوں کا جال بچھائے جانے کے علاوہ توانائی کے بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔

ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک سڑکوں، ریلوے لائنوں، ڈیمز اور توانائی کی فراہمی کے منصوبوں کی تعمیر کے ذریعے پاکستانی معیشت میں ترقی کے لیے اعانت فراہم کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

ان کے بقول ایران کی قدرتی گیس پاکستان کے لیے توانائی کا سب سے سستا، تیز رفتار اور قابل اعتماد ذریعہ ہے۔

سفیر ہنر دوست نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد از جلد شروع ہونا چاہیے اور ایران جلد ہی تقریباً دو ارب ڈالر کی لاگت سے اپنی طرف پائپ لائن کی تعمیر مکمل کر لے گا۔

تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارتی و کاروباری شعبے میں مختلف چیلنجز کی وجہ سے تاحال فوائد بہت محدود ہیں لیکن ان پر قابو پا کر دوطرفہ تجارت کو مہمیز کیا جا سکتا ہے۔

فیڈریشن کے صدر عبدالرؤف عالم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی ایران کے ساتھ 2021ء تک دو طرفہ سالانہ تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔

ان کے بقول پاکستان، ایران سے بجلی کی درآمد میں اضافہ کرسکتا ہے لیکن تہران کو اس سلسلے میں قیمت کو کم کرنا چاہیے۔

فیڈریشن کے نائب صدر ظفر بختاوری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اقتصادی راہداری میں ایران کی دلچپسی اس منصوبے کی خطے کے لیے افادیت کو ظاہر کرتی ہے۔

"یہ اقتصادی راہداری صرف پاکستان کے لیے ہی نہیں پورے خطے کے مفاد میں ہے۔"

بعض حلقوں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ گوادر کی بندرگاہ کے قابل عمل ہونے سے ایران کی بندرگاہ چاہ بہار پر کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں لیکن فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالرؤف عالم کا کہنا تھا کہ یہ دونوں بندرگاہیں ایک دوسرے کی حریف نہیں بلکہ خطے میں بحری تجارت کا مرکز بننے کے لیے ایک دوسرے کی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG