رسائی کے لنکس

مصر کی صورت حال کا ایران سے موازنہ

  • ہینری رجویل

مصر کی صورت حال کا ایران سے موازنہ

مصر کی صورت حال کا ایران سے موازنہ

جمعے کو ایران میں اسلامی انقلاب کی بتیسویں سالگرہ ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب مصر میں حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، اور دنیا کے لیڈر مصر کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ بعض لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا مصر میں ایران کے واقعات دہرائے جائیں گے۔ لیکن بہت سے مبصرین کہتے ہیں کہ مصر میں احتجاج کرنے والے لوگوں کی تحریک پر مذہب کا اثر نہیں ہے ۔

آخر وہ کونسا جذبہ ہے جو لاکھوں احتجاجیوں کو مصر کے شہروں کی سڑکوں پر لے آیا ہے ، اور ان ہنگاموں کا اختتام کس طرح ہوگا۔ دنیا کے بہت سے لیڈروں کے ذہن میں یہ سوالات ابھر رہے ہیں۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ یہ 1979 میں ایران کی طرح ، مصر میں اسلامی انقلاب کی ابتدا ہے ۔ لیکن بہت سے لوگ جنھوں نے اپنی آنکھوں سے مصر میں احتجاجی مظاہروں کا مشاہدہ کیا ہے، اس خیال سے متفق نہیں ہیں ۔ شیراز ماہر، لندن میں انٹرنیشنل سنٹر فار دی سٹڈی آف ریڈیکلائزیشن سے وابستہ ہیں۔ وہ حال ہی میں قاہرہ سے واپس لوٹے ہیں۔

شیرازکہتے ہیں’’یہ کوئی اسلامی تحریک نہیں ہے۔ میں تحریر اسکوائر میں موجود تھا اور یہاں اپنے آفس کے لیئے ریسرچ کر رہا تھا۔ جب آپ ان لوگوں سے بات کرتے ہیں، تو پتہ چلتا ہے کہ اس تحریک کا تعلق بعض بالکل بنیادی باتوں سے ہے۔ اس کا تعلق انسانی حقوق سے ہے، آزادی سے ہے، اور مصریوں کی اس خواہش سے ہے کہ ان کا وقار اور ان کی عزت نفس بحال ہو۔‘‘

بادی النظر میں تو مصر میں احتجاج اور تشدد کے مناظر بالکل 1979 میں ایران کی نیوزریلز جیسے لگتے ہیں۔ اس زمانے میں حکومت مخالف مظاہرے تیزی سے پھیل گئے اور سڑکوں پر جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ایران کے بادشاہ کا، جنہیں امریکی حمایت حاصل تھی، تختہ الٹ دیا گیا۔ ایران کو آیت اللہ خمینی کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ قرار دے دیا گیا۔

ایرانی نژاد تجزیہ کار حاضر تیموریاں اس وقت ایک صحافی تھے اور بین الاقوامی میڈیا کے لیئے ایرانی انقلاب کو کور کر رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت کے واقعات میں، اور آج کل مصر میں جو کچھ ہور ہا ہے، اس میں ، بہت سی باتیں ایک جیسی ہیں۔’’ایرانیوں نے اپنے آپ سے کہا کہ ہمارے لیئے حالات اس سے زیادہ اور کیا خراب ہو سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ شاہ سے جان چھوٹے، پھر ہم خود آپس میں نئی حکومت کے بارے میں طے کر لیں گے ۔ مصری بھی وہی غلطی کر رہے ہیں۔ حالات غلط سمت میں جا سکتے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ وہ متحد نہیں ہیں۔ اتفاقِ رائے صرف اس بات پر ہے کہ مبارک سے جان چھوٹ جائے۔‘‘

مصر میں ایسا کوئی ایک گروپ نہیں ہے جسے اکثریت کی حمایت حاصل ہو۔اخوان المسلمین اب بھی سب سے زیادہ طاقتور جماعت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں اور نہ ہی وہ مصر کو اسلامی ملک بنانا چاہتےہیں۔

شیراز ماہرکہتے ہیں کہ امریکہ اور مغربی ملکوں کو احتجاج کرنے والوں کی حمایت کے اظہار میں جلدی کرنی چاہیئے تھی ۔’’لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چلا ہے ۔ وہ کہہ رہے ہیں، وہ اقدار اور وہ آزادیاں کہاں ہیں جو آپ کو اپنے لیئے تو عزیز ہیں، لیکن کیامصری ان کے حقدار نہیں ہیں؟ میرا خیال ہے کہ لوگ محسوس کرنے لگیں گے کہ ان کے ساتھ دغا کی گئی ہے ۔ اگر کوئی چیز آپ کے لیئے اچھی ہے تو وہی چیز ہمارے لیئے اچھی کیوں نہیں ہو سکتی۔ کیا ہم پر کبھی اعتماد نہیں کیا جائے گا کیوں کہ ہم عرب ہیں یا مسلمان ہیں۔ پھر اسلام پسند گروپ ان باتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘‘

ماہر کہتے ہیں کہ مصر میں انتہا پسند مسلمان گروپوں کا ایک نیٹ ورک قائم ہے۔ لیکن احتجاجیوں نے رہنمائی کے لیئے ان کی طرف نہیں دیکھا ہے ۔ یہ چیز ایران سے بالکل مختلف ہے جہاں احتجاج کرنے والوں نے آیت اللہ خمینی کو اپنا رہبر تسلیم کیا ہوا تھا۔

تا ہم تجزیہ کار حاضر تیموریاں مصر کے طویل المدت سیاسی مستقبل کے بارے میں پُر امید نہیں۔ وہ کہتے ہیں’’توقع ہے کہ مصر کی آبادی اس صدی کے وسط تک آٹھ کروڑ پچاس لاکھ سے بڑھ کر بارہ کروڑ ہو جائے گی۔ اس آبادی کے ایک تہائی حصے کی عمر پندرہ برس سے کم ہوگی۔ مصر کی آبادی میں ساٹھ فیصد لوگوں کی عمر تیس سال سے کم ہے ۔ میرے خیال میں کسی بھی قسم کی حکومت، صاف ستھری، جمہوری یا مذہبی یا کوئی اور، اتنے سارے نوجوان لوگوں کی توقعات پوری نہیں کر سکتی۔‘‘

تیموریاں کہتے ہیں کہ یہ وہ صورت ِ حال ہے جس کا سامنا تمام ترقی پذیر ملکوں کی حکومتوں کو کرنا پڑ رہا ہے، اور مصر میں جو شورش برپا ہے، وہ اس کی سرحدوں سے بہت دور بھی دہرائی جائے گی۔

متعلقہ

XS
SM
MD
LG