رسائی کے لنکس

ایران: محمود احمدی نژاد کے صدر منتخب ہونے کی پہلی سالگرہ کی تیاریاں


ایران 12 جون کو صدارتی انتخابات کی پہلی سالگرہ منانے کی تیاری کررہا ہے جس میں محمود احمدی نژاد اپنے عہدے کی دوسری مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے تھے۔

ان کے دوبارہ انتخاب کو ووٹنگ کی بے قاعدگیوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑاتھا اور کئی ہفتوں تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رہاتھا جس میں کئی افراد کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ بدامنی کے دوران 72 افراد ہلاک ہوئےتھے ۔ جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد حزب مخالف کے دعوؤں کے نصف سے بھی کم تھی اور اس میں سیکیورٹی فورسز کے اہل کار بھی شامل تھے۔

دسمبر میں ایرانی حکام نے پہلی بار یہ تسلیم کیا تھا کہ مظاہروں کے دوران گرفتار کیے جانے والے تین قیدیوں کو جیل حکام نے بری طرح مارا پیٹاتھا۔

جنوری میں انسانی حقوق کی تنظیم، ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہاگیاتھا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز نے احتجاج اور تنقید بند کرانے کی امید پربلاسوچے سمجھے ہزاروں پرامن مظاہرین کو گرفتار کیاتھا۔

مارچ میں ایران نے 80 سے زیادہ افراد کو انتخابات کے بعد مظاہروں سے تعلق کی بنا پر مختلف معیاد کی سزائیں دی تھیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ کم ازکم 11 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔

حزب اختلاف کے گروپوں نے 12 جون کو صدراتی انتخابات کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جلسے اور جلوسوں کی اجازت کے لیے کہا ہے۔

XS
SM
MD
LG