رسائی کے لنکس

ایرانی میڈیا نے جمعے کوہونے والے ملک کے پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالے جانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ ان انتخابات سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو صدر محمود احمدی نژاد کے کیمپ سے تعلق رکھنے والے اپنے مخالفین پراپنا کنٹرول کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

نیم سرکاری خبررساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ ایران کی وزارت داخلہ نے پولنگ اسٹیشنوں کے باہر طویل قطاروں میں اپنی باری کے منتظر ووٹروں کو رائے دہی کا موقع فراہم کرنے کے لیے ووٹنگ کے وقت میں دوگھنٹوں کا اضافہ کردیا ہے۔

ایران میں پارلیمان کی 290 نشستوں پر انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ جمعہ کی صبح شروع ہوئی۔

ان انتخابات کو صدر محمود احمدی نژاد کے حامی اور مخالف قدامت پسندوں کے درمیان مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے، کیوں کہ 3,400 امیدواروں میں محض چند انقلابی شامل ہیں۔

ایران کی قدامت پسند حکومت اور مذہبی رہنماؤں نے 2009ء کے بعد سے ملک میں انقلابی تحریک کو دبانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جب اس تحریک نے مسٹر احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔

ایران کے انقلابی رہنماؤں کو گرفتار اور نظر بند کرنے کے علاوہ بعض کو انتخابات میں حصہ لینے سے بھی روک دیا گیا۔ ان رہنماؤں نے عوام کو انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے۔

جمعہ کو ہونے والے انتخابات کے لیے اہل ووٹروں کی مجموعی تعداد چار کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے۔

ایران کے راہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنا ملک کے دشمنوں کی نافرمانی کے مترادف ہوگا۔ اُن کا اشارہ مغربی ممالک کی جانب تھا جو ایران کی معیشت پر پابندیوں کی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

مغربی طاقتوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران ایران کو اپنی جوہری سرگرمیاں بند کرنے کے سلسلے میں دباؤ بڑھانے کے لیے تعزیرات مزید سخت کر دی ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

XS
SM
MD
LG