رسائی کے لنکس

ایران میں پارلیمانی انتخابات: چند حقائق


ایران میں پارلیمانی انتخابات: چند حقائق

ایران میں پارلیمانی انتخابات: چند حقائق

ایران میں ووٹ دینے کا حق 18 سال سے بڑی عمر کے افراد کو حاصل ہے اور ملک کی سات کروڑ 40 لاکھ آبادی میں سے چار کروڑ 80 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں

ایرانی پارلیمان کی 290 نشستوں کےلیے کُل 5395 امیدواروں نےکاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھےجن میں سے3444 امیدواران کو شوریٰ نگہبان نےانتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔

ایران میں ووٹ دینے کا حق 18 سال سے بڑی عمر کے افراد کو حاصل ہےاورملک کی سات کروڑ 40 لاکھ آبادی میں سے چار کروڑ 80 لاکھ افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

آیت اللہ خامنہ ای کے متعلق بعض حقائق:

آیت اللہ علی خامنہ ای ملک کے روحانی پیشوا اور آئینی طور پر سب سے بااختیار شخص ہیں جنہیں ایران کی قدامت پسند انتظامیہ کا سربراہ تصور کیا جاتا ہے۔

خامنہ ای 1981ء سے 1989ء تک ایران کے صدر بھی رہے ہیں۔ ملک کے پہلے سپریم رہنما اور انقلابِ ایران کے بانی آیت اللہ خمینی کے انتقال کے بعد وہ سپریم رہنما مقرر ہوئے۔

آیت اللہ خامنہ ای ایرانی کابینہ کے وزرا کی تقرریوں اور برطرفی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک اپنی جوہری تنصیبات پر کسی بھی امریکی یا اسرائیلی حملے کا آہنی ہاتھوں سے جواب دے گا۔

صدر احمدی نژاد کے متعلق بعض حقائق:

ایران کےصدراحمدی نژاد پہلی بار2005ء میں صدرمنتخب ہوئے تھے جب کہ 2009ء میں انہیں دوسری مدت کے لیے منتخب کیا گیا۔

وہ گزشتہ 24 برسوں میں ایران کے پہلے صدر ہیں جو مذہبی عالم نہیں۔صدارتی انتخاب سے قبل بین الاقوامی برادری احمدی نژاد کے نام سے ناآشنا تھی۔

احمدی نژاد نازی جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام، ہولو کاسٹ، کوحقیقت تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

صدرنژاد نے اقتدارسنبھالنے کے بعد وینزویلا کے صدراورامریکہ کےکڑے ناقد ہیوگو شاویز سمیت دیگر لاطینی امریکی رہنمائوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔

ایرانی صدر کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ ان کا ملک خود پہ عائد عالمی پابندیوں کے باعث اپنا جوہری پروگرام ختم نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG