رسائی کے لنکس

ایران کی جوہری سرگرمیوں پر عالمی اداروں کی تشویش

  • جیفری ینگ

ایران کی جوہری سرگرمیوں پر عالمی اداروں کی تشویش

ایران کی جوہری سرگرمیوں پر عالمی اداروں کی تشویش

عالمی تنقید کے باوجود ایران کا کہنا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔ بہت سے لوگوں کی رائے میں ایران نے اپنی ایٹمی سرگرمیوں کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔اس مہینے کے شروع میں ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ فریدون عباسی نے کہا تھا کہ ایران اپنی دو تنصیبات پر یورینیم افزود ہ کرے گا۔

نتانز کے جوہری پلانٹ میں بجلی پیدا کرنے کے لیے یورینیم افزود کی جائے گی۔ لیکن ایک اور تنصیب جس کا نام فوردو ہے۔ اس کے بارے میں ایٹمی عدم پھیلاو کی تنظیم نیوکلیئر تھریٹ انی شیٹو سے منسلک تجزیہ کار کوری ہینڈرسٹن کہتی ہیں یہاں یورینیم کی افزودگی کا پیمانہ بہت بڑا ہو گا۔

وہ کہتی ہیں کہ یہاں جس پیمانے کی افزودگی کی جائے گی وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔ مگر اس سے انہیں ایک ایسا پلیٹ فارم مل جائے گا جسکے ذریعے اگر وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کا سوچتے ہیں تو وہ بہت کم وقت میں ایسا کر سکتے ہیں۔

فردو میں یورینیم افزودہ کرنے کا پلانٹ قم شہر کے قریب ایک پہاڑی سلسلے میں بنایا گیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی سے وابستہ ایک سابق عہدے دار ڈیوڈ البرائٹ کہتے ہیں کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ ایران کے ایٹمی عزائم پرامن مقاصد کے لیے نہیں ہیں۔

ان کا کہناہے کہ ایران نے یہ کہہ کر کے وہ سینٹری فیوجز لے رہا ہے۔ کافی جارحانہ پیغام دیا ہے۔ ایڈوانس سینٹری فیوجز اور یورینیم افزدوہ کرنے کے لیے انہیں ایک ایسی زیرِ زمین جوہری تنصیب میں رکھنا جس پر بم بھی بے اثر ہوں ، کا مقصد کیا ہے؟ اس طرح وہ ایٹمی ہتھیار بنانے کے کافی قریب پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کے سربراہ فریدون عباسی کا کہنا ہے کہ فاردو کے ایٹمی گھر میں یورنیم کو 20 فیصد تک افزود کیا جائے گا۔ جس سے میڈیکل آئسو ٹوپس بنائی جائیں گی۔ اور یہاں پہلے کی نسبت تین گناہ زیادہ یورینیم افزود کی جائے گی۔

کوری ہنڈر سٹائن کے مطابق ایران کے پاس پہلے ہی 50 کلو گرام کی مقدار میں 20 فیصد تک افزود کی گئی یورینیم موجود ہے۔ جو پانچ سال تک تہران کے میڈیکل ریسرچ ری ایکٹر کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ کسی دوسرے ری ایکٹر پر میڈیکل آئسو ٹوپس بھی نہیں بنائی جا رہیں۔ تو سالانہ کی بنیادوں پر تین گناہ اضافہ پرامن مقاصد کی تشریح نہیں کرتا۔

ایران کے ایٹمی پروگرام کی توسیع کو دیکھتےہوئے مغرب میں کچھ حلقے فوجی کاروائی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ اور بعض مبصرین کی رائے میں ایران اسی خطرے کے باعث زیادہ تیزی سے ایٹمی پروگرام پر کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔واشنگٹن کے ایک تحقیقی ادارے رینڈ کارپوریشن نے حال ہی ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں امریکہ اور دیگر ممالک کے لیے کئی تجاویز موجود تھیں۔

ایک تو یہ کہ ایران کے خلاف موجودہ پابندیوں کو مزید سخت کر دیا جائے اور اس کے ساتھ عرب خطے میں امریکی فوجوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔

ایک اور راستہ یہ ہے کہ سخت پابندیوں کے علاوہ عرب ایران خطے کے باقی ممالک میں ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر میزائل ڈیفنس سسٹم لگا دیا جائے۔

جبکہ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ میں تیسری تجویز بالکل مختلف راہ اپنانے کا مشورہ دیتی ہے۔ یعنی پابندیاں اٹھا لی جائیں۔ فوجی کاروائی کا خطرہ ختم کیا جائے تاکہ ایران خوف کی فضا سے نکل سکے۔ علی رضا نادر رپورٹ اس تحقیقی رپورٹ میں شامل تھے۔ تیسری تجویز ہے کہ ایران اور مغرب کے درمیان تلخیوں کو ختم کرنا ہو گا۔

علی رضا نادر کہتے ہیں کہ تہران کی پہلی اور حتمی کوشش اپنی ریاست کا بچاؤ ہے۔ اور رینڈ کارپوریشن کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ ایران کے اس خدشے کو ختم کر کے شاید اس کے ایٹمی عزائم کو روکا جا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG