رسائی کے لنکس

ایران: خاتون وکیل کو 11 سال قید کی سزا


ایران: خاتون وکیل کو 11 سال قید کی سزا

ایران: خاتون وکیل کو 11 سال قید کی سزا

انسانی حقوق کی معروف ایرانی خاتون وکیل کو ایک ایرانی عدالت نے ’ملکی سلامتی کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور ملکی حکمرانوں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے‘ کے جرم میں 11 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

نسرین ستودہ نامی خاتون وکیل کو ایرانی حکام نے گزشتہ سال ستمبر میں حراست میں لیا تھا جس کے بعد انہیں تین ماہ تک تہران کی ایک جیل میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔

ستودہ وکلاء کے اس گروپ کا حصہ تھیں جس نے 2009ءمیں صدر محمود احمدی نژاد کے انتخاب کے خلاف اصلاح پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے پرتشدد مظاہروں میں گرفتار کیے گئے سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کا ایرانی عدالتوں میں دفاع کیا تھا۔

خاتون وکیل کے خاوند رضا خاندان نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ انہیں ان کی اہلیہ کے وکلاء نے بتایا ہے کہ نسرین ستودہ پر عائد کیے گئے الزامات ثابت ہونے کے بعد عدالت نے انہیں 11 سال قید کی سزا سنادی ہے۔

رضا خاندان کا کہنا تھا کہ عدالت نے ستودہ پر بحیثیت وکیل کام کرنے پر بھی 20 سال کی پابندی عائد کردی ہے جبکہ انہیں اتنی ہی مدت کےلیے بیرونِ ملک سفر سے بھی روک دیا گیا ہے۔

امریکی شہر نیو یارک میں قائم ’ایران کی عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق‘ نامی گروپ نے ستودہ کو سنائی گئی سزا کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کے عالمی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے۔

گروپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خاتون وکیل کو ایرانی اور عالمی قوانین کی پاسداری کا مطالبہ کرنے کے جرم میں جیل بھیجا گیا ہے۔

واضح رہے کہ انسانی حقوق کی نوبیل انعام یافتہ ایرانی کارکن شیریں عبادی نے بھی گزشتہ ماہ نسرین ستودہ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ عبادی نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق سے ستودہ کی رہائی کےلیے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بھی اپیل کی تھی۔

XS
SM
MD
LG