رسائی کے لنکس

ایران کا میزائل تجربات قانونی ہونے پر اصرار، امریکہ کا عالمی ردعمل پر زور


ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے کہا کہ میزائل تجربات ’’خطرناک اور اشتعال انگیز تھے‘‘ اور وہ علاقے میں ’’امن کے امکان‘‘ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے منگل کو کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ان کے ملک کی طرف سے کیے گئے میزائل تجربات اس جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے جو گزشتہ سال ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے کیا تھا۔

آسٹریلیا کے دورے کے دوران جواد ظریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران میزائلوں کو اپنے دفاع کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے اور ان کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی ترسیل نہیں ہے۔

’’ہم ایسے کوئی میزائل تیار نہیں کرتے جو ایسے (ہتھیار) داغ سکیں جو ہمارے پاس ہیں ہی نہیں۔‘‘

انہوں نے ان ممالک کو چیلنج کیا جو ’’ایران کے میزائل پروگرام پر شکایت کر رہے ہیں‘‘ کہ وہ ایران کے اس عزم کا ساتھ دیں کہ وہ صرف اپنے دفاع کے لیے طاقت استعمال کریں گے۔

ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا جب اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سمانتھا پاور نے پیر کو کہا کہ میزائل تجربات ’’خطرناک اور اشتعال انگیز تھے‘‘ اور وہ علاقے میں ’’امن کے امکان‘‘ کے لیے نقصان دہ ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ میزائل تجربات اقوام متحدہ کی جولائی میں منظور کی جانے والی قرارداد کی خلاف ورزی کرتے ہیں جو ایران سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ’’جوہری ہتھیاروں کی ترسیل کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے متعلق کوئی سرگرمی نہ کرے جس میں وہ تجربات بھی شامل ہیں جو بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی استعمال کرکے کیے جائیں۔‘‘

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ ایران کا اقدام قرارداد کے منافی ہے۔

جب روسی سفیر وتالی چرکن سے پوچھا گیا کہ کیا اقوام متحدہ کو ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنی چاہئیں تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس کی تردید کی۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی قانونی خلاف ورزی نہیں کی گئی کیونکہ ’’مطالبہ پابندی سے مختلف ہے۔ قانونی طور پر آپ مطالبے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’آپ مطالبے کو مان سکتے ہیں یا مطالبے کو نظر انداز کر سکتے ہیں مگر آپ مطالبے کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔‘‘

تاہم سمانتھا پاور کا کہنا تھا کہ روس اس معاملے پر اپنی مشترکہ ذمہ داری سے گریز کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سلامتی کونسل میں اس معاملے پر بس نہیں کرے گا اور ایران کی طرف سے عام کی گئی ایسی معلومات فراہم کرے گا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو ٹیکنالوجی وہ استعمال کر رہا ہے وہ جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

XS
SM
MD
LG