رسائی کے لنکس

میزائل تجربہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں: ایران


 'فارس' کے مطابق 'قدر ایچ' نامی میزائل ایران کے مشرقی پہاڑی سلسلے البرز سے فائر کیے گئے تھے

'فارس' کے مطابق 'قدر ایچ' نامی میزائل ایران کے مشرقی پہاڑی سلسلے البرز سے فائر کیے گئے تھے

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو جن دو میزائلوں کے تجربات کیے گئے ان پر عبرانی زبان میں "اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہیے" کا پیغام تحریر تھا۔

ایران نے کہا ہے کہ اس کی جانب سے رواں ہفتے کیے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کے تجربات سے گزشتہ سال طے پانے والے جوہری معاہدے کی کسی شق یا اقوامِ متحدہ کی کسی پابندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا ہے کہ ایران اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھے گا جو ترجمان کے بقول "مکمل طور پر قانونی اور دفاعی نکتۂ نظر سے انتہائی اہم ہے۔"

ایران نے منگل اور بدھ کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کے کئی تجربات کیے تھے جن پر امریکہ نے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔

جمعرات کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے بتایا کہ وزیرِ خارجہ جان کیری نے بھی بدھ کو ایرانی ہم منصب جواد ظریف سے رابطہ کرکے میزائل تجربات پر اپنے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

تاہم ایک ایرانی نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جان کیری نے جواد ظریف کو ای میل کی تھیں جن میں انہوں نے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ لیکن، نیوز ایجنسی کے مطابق، جواد ظریف کے بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان گزشتہ سال طے پانے والے جوہری معاہدے میں ایران کے میزائل تجربات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔

تاہم رواں سال جنوری میں معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد کے ذریعے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اور تجربات سے گریز کرے جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو جن دو میزائلوں کے تجربات کیے گئے ان پر عبرانی زبان میں "اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہیے" کا پیغام تحریر تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'فارس' کے مطابق 'قدر ایچ' نامی میزائل ایران کے مشرقی پہاڑی سلسلے البرز سے فائر کیے گئے تھے جنہوں نے 1400 کلومیٹر دور خلیجِ عمان میں واقع اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

ایرانی فوج 'پاسدارانِ انقلاب' کے میزائل ڈویژن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل عامر علی حاجی زادے نے کہا ہے کہ ایران نے اپنے میزائلوں کی مار دو ہزار کلومیٹر تک اس لیے کی ہے تاکہ وہ "ہماری دشمن صیہونی ریاست کو نشانہ بنا سکیں"۔

تاہم ایرانی فوجی کمانڈر نے واضح کیا کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ جنگ میں پہل نہیں کرے گا اور میزائل تجربات کا مقصد صرف ایران کی دفاعی قوت کا اظہار کرنا ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع موشے یالون نے ایران کے میزائل تجربات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ایران کی صیہونی ریاست کے لیے دشمنی کا مظہر قرار دیا ہے۔

جمعرات کو ایک اسرائیلی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے موشے یالون نے کہا کہ میزائل تجربات سے اسرائیل کا یہ موقف سچ ثابت ہوگیا ہے کہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز اور ایرانی صدر حسن روحانی کی جانب سے مغرب سے پینگیں بڑھانے کے باوجود ایران کی اسرائیل دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

ایران اور اسرائیل کے بڑے شہروں تل ابیب اور یروشلم کا کم از کم فاصلہ تقریباً ایک ہزار کلومیٹر بنتا ہے جس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کے یہ شہر نئے ایرانی میزائلوں کی پہنچ میں ہیں۔

XS
SM
MD
LG