رسائی کے لنکس

ایران 'جوہری حق' پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، خامنہ ای


ایران کے سپریم رہنما نے کہا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے "سرخ لکیر" کا تعین کر رہے ہیں۔

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کا ملک جوہری توانائی کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

جناب خامنہ ای کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا دور جنیوا میں ہورہا ہے۔

بدھ کو ہونے والے مذاکرات کے آغاز سے چند گھنٹے قبل تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپریم رہنما نے کہا کہ وہ ایرانی مذاکرات کاروں کے لیے "سرخ لکیر" کا تعین کر رہے ہیں۔

تاہم خامنہ ای کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران تمام ممالک بشمول امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔

مذاکرات میں شریک اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان – امریکہ، برطانیہ، روس، چین اور فرانس – اور جرمنی ایران کو ایک عبوری معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت ایرانی حکومت یورینیم کی خاص سطح تک افزودگی روک دے گی اور عالمی معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے تفصیلی جائزے کی اجازت دے گی۔

ان اقدامات کے عوض عالمی طاقتوں نے ایران کو اس پر عائد بعض معاشی پابندیاں نرم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

عالمی طاقتوں کی اعلیٰ مذاکرات کار اور یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں جن کے نتیجے کے بارے میں قبل از وقت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

فریقین کے درمیان 10 روز میں مذاکرات کا یہ دوسرا دور ہے جس میں انہوں نے گزشتہ ایک دہائی سے جاری اس تنازع کے حل پر اتفاق ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ اور جوہری پروگرام سے متعلق سرکردہ مصالحت کار جواد ظریف نے یو ٹیوب پر جاری کی گئی وڈیو میں کہا کہ معاہدے پر متفق ہونے کا ’’امکان‘‘ موجود ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کے دفتر کے مطابق مسٹر کیمرون اور ایران کے صدر حسن روحانی نے منگل کو ٹیلی فون پر گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا کہ رواں ماہ ہوئے گزشتہ مذاکرات میں ’’قابلِ ذکر پیش رفت‘‘ ہوئی تھی۔

ظریف نے ایران کا یہ موقف دہرایا کہ وہ یورینیم کی افژودگی کے اُس کے بقول اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا، مگر مذاکرات کے آغاز کے لیے اس شرط پر مزید اصرار نہیں کرے گا کہ مغربی طاقتیں اس حق کو عوامی سطح پر تسلیم کریں۔

دریں اثنا امریکہ کے ایک سینیئر قانون ساز نے منگل کو کہا کہ مذاکراتی عمل کے دوران کانگریس ایران کے خلاف کسی نئی اقتصادی پابندیوں پر رائے شماری نہیں کرے گی۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG