رسائی کے لنکس

ایران کے میڈیا کے مطابق بدھ کو 1400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے ' قادر ایچ' نامی دو میزائلوں کے تجربے کیے گئے۔

ایران نے کہا ہے کہ اس نے بدھ کو دو مزید بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔ ایک روز قبل ایران نے متعدد میزائلوں کے تجربے کیے جس پر امریکہ نے ایران پر تنقید کی جبکہ تہران کا موقف ہے کہ یہ تجربات اس کی "دفاعی صلاحیت " کا اظہار ہے۔

ایران کے میڈیا کے مطابق بدھ کو 1400 کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے والے ' قادر ایچ' نامی دو میزائلوں کے تجربے کیے گئے۔

امریکہ کی وزارت خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے کہنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کے ساتھ " مناسب ردعمل کی ضرورت پر زور دے گا"۔

ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم ایران کے میزائل پروگرام کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے طور پر اقدامات اٹھائیں گے"۔

تاہم کربی نے یہ تسلیم کیا کہ میزائلوں کے ان تجربات کی ایران کے چھ ملکوں کے ساتھ ہوئے جوہری معاہدے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔ اس جوہری معاہدے کے تحت ایران نے اپنے اوپر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے عوض اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ معاہدہ ان تحفظات کو ختم کرنے کے لیے کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے پر کام کر رہا ہے جس کی ایران نے ہمیشہ تردید کی۔

اس معاہدے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک نئی قرارداد منظور کی جس میں ایران کو کہا گیا کہ وہ "ایسے بیلسٹک میزائل کے پروگرام جو جوہری ہتھیار لے جا سکتے ہیں، اور ایسی ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے ان کے تجربات " نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG