رسائی کے لنکس

ایران پر جوہری مذاکرات میں شمولیت کا مطالبہ


ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ

ایرانی سفیر علی اصغر سلطانیہ

ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایسے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے جس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوسکیں

چھ عالمی طاقتوں نے ایران سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی پیشگی شرط کےبغیر اپنے متنازع جوہری پروگرام پرعالمی مذاکرات کا آغاز کرے اورعالمی معائنہ کاروں کو اپنی فوجی تنصیب کے معائنے کی اجازت دے۔

جمعرات کو ویانا میں اقوام متحدہ کے جوہری سرگرمیوں کے نگران ادارے کے بورڈ کے اجلاس میں چھ ملکی مذاکراتی گروپ، جسے پی فائیو پلس ون کہا جاتا ہے، کے نمائندوں نے کہا کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایسے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت ہے جس کے ٹھوس نتائج برآمد ہوسکیں۔

چھ ملکی گروپ میں سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والے پانچ ممالک یعنی امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس کے علاوہ جرمنی بھی شامل ہے۔

بیان میں تنازع کے سفارتی حل کی حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے ایران پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو اپنی پارچین کی جوہری تنصیب میں داخلے کی اجازت دے، جہاں ان کے جانے پر پابندی عائد ہے۔

آئی اے ای اے کے اجلاس میں مغربی سفارت کاروں کو ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران معائنہ کاروں کے پارچین کی تنصیب کے دورے میں غالباً اس لیے خلل ڈال رہا ہے تاکہ اس دوران وہاں کا عملہ ممکنہ طور پر وہاں کیے جانے والے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تجربات کے شواہد مٹادے۔

عہدیدار نے اجلاس کے شرکا کو پارچین کی تنصیب کی کچھ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر بھی پیش کیں جن میں تنصیب کی تعمیرات میں بعض تبدیلیوں کی نشان دہی کی گئی ہے۔

لیکن 'آئی اے ای اے' میں ایران کے سفیر علی اصغر سلطانیہ نے پارچین فوجی مرکز کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کو "مضحکہ خیز" اور "بچکانہ" قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔

دریں اثنا، عالمی ادارے کے سربراہ یوکیا امانو نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ایران نے اب تک معائنہ کاروں کو پارچین کے دورے کی اجازت دینے کے بارے میں ایجنسی سے باضابطہ رابطہ نہیں کیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز ایرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ ایران عالمی معائنہ کاروں کو تنصیب کے دورے کی اجازت دے سکتا ہے۔

مغربی اقوام کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیارکرنے کی تگ ودو کررہاہے جب کہ ایران کا کہناہے کہ وہ پرامن جوہری عزائم رکھتا ہے۔

آئی اے ای اے کے جوہری ماہرین پارچین کی جوہری ہتھیاروں سے منسلک تجربات کی مشکوک سرگرمیوں کےایک مقام کے طورپر نشان دہی کرچکے ہیں۔

ایران جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات سے انکار کرتا ہے اور اس کا کہناہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں توانائی کے حصول اور پرامن مقاصد کے لیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG