رسائی کے لنکس

ایران کے جوہری امور کے سربراہ نے اشارہ دیا ہے کہ تہران کا وفد اس ہفتے عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر کچھ تجاویز پیش کرسکتا ہے جس میں یورینیم کی اعلیٰ درجے پر افزودگی روکنا شامل ہے، جب کہ جوہری ایندھن کی تیاری کا مکمل خاتمہ ان تجاویز کا حصہ نہیں ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز ایران اور سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر ایران کی نئی تجویز میں سب سے اہم ایشو کو براہ راست حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکہ اور دوسری عالمی طاقتوں نے یورینیم کی 20 صد سطح پر افزودگی اور ان کو ذخیرہ کرنے پر اپنے شدید تحفظات ظاہر کرچکے ہیں ، جسے چند ماہ کے اندر ہتھیار بنانے کی سطح پر افزودہ کیا جاسکتا ہے۔

لیکن ایران کے جوہری امور کے سربراہ فریدون عباسی کی وضاحت مغرب کو زیادہ مطمئن نہیں کرسکے گی کیونکہ نئی تجاویز میں بھی یورینیم کی افزودگی ایران کے ہاتھ میں ہی رکھی گئی ہے اور اسے کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کی بات نہیں کی گئی۔

عباسی نے کہا کہ تہران اپنے تحقیقاتی جوہری ری ایکٹر کے لیے درکار 20 فی صد افزودہ یورینیم کی تیاری بند کرسکتا ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے اس سے کم سطح پر یورینیم کی افزدوگی جاری رکھے گا۔

عباسی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر بتایا کہ ایران 20 فی صد افزودہ یورینیم کو طبی شعبے میں تحقیق اور علاج کے لیے ذخیرہ کرنا چاہتا ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے لیے 90 فی صد افزدوہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ 20 فی صد افزودہ یورینیم کا مطلب یہ ہے کہ آپ جوہری ہتھیاروں کے لیے درکار افزودگی سے کچھ ہی پیچھے ہیں۔

ایک اور خبر کے مطابق پیر کے روز ایران کی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر وزیر خارجہ علی اکبر صالحی سے یہ بیان منسوب کیا گیا ہے کہ ایران مستقبل کے مذاکرات سے پرامید ہے لیکن انہوں نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ ان کا مطلب کوئی پیشگی شرط قبول نہیں کرے گا۔

XS
SM
MD
LG