رسائی کے لنکس

ایران جوہری تنازع: استنبول اجلاس، اختلافات کے خاتمے کی جانب پہلا قدم

  • عادل زیب

ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری میں پائے جانے والے تحفظات کے پُرامن حل میں ابھی پیش رفت ہونا باقی ہے: ولیم ہیگ

برطانیہ نےاستنبول میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو ایران کے جوہری پروگرام پر پائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کی جانب پہلا قدم قرار دیتے ہوئے، کہا ہے کہ پُرامن جوہری پروگرام کی جانب پیش رفت کے لیے اقدامات پر متفق ہونا ’باہمی اعتماد کی بحالی‘ میں مددگار ثابت ہوگا۔

پندرہ ماہ کے طویل وقفے کے بعد استبول میں ایران اور چھ بڑی عالمی طاقتوں، امریکہ، روس، چین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والےمذاکرات کے پہلے دور پر تبصرہ کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی برادری میں پائے جانے والےتحفظات کے پُرامن حل میں ابھی پیش رفت ہونا باقی ہے۔

امریکہ سمیت یورپی ممالک نے بھی ہفتے کے دن کے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو ’خوش آئند‘ قرار دیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ استنبول مذاکرات ایران اور عالمی طاقتوںٕ کے درمیان اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔

اُن کے الفاظ میں، ’ پُر امن مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کا حق ایران کو حاصل ہونا چاہیئے۔ ہم مذاکرات میں پیش رفت اور ایران کے ساتھ اعتماد سازی کی بحالی چاہتے ہیں‘۔

استنبول مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو کتنا مثبت قرار دیا جاسکتا ہے، تجزیہ کار جان محمد کہتے ہیں کہ اِن باتوں سے یوں لگتا ہے کہ ایران اس حد تک راضی ہے کہ ایران کی ایٹمی صلاحیت کے بارے میں مذاکرات ہوں۔ لیکن، ابھی بہت راستہ طے ہونا باقی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل سمیت بیشتر مغربی ممالک ایران کے ایٹمی پروگرام کے پُرامن ہونے پر تحفظات رکھتے ہیں جس کے باعث اِن ممالک کے ایران سےشدید اختلافات چلے آرہے ہیں۔ لیکن، ایران کا کہنا ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام پُر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ایران اور عالمی برادری کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام پرپائے جانے والے اختلافات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا دوسرا دور 23مئی کو بغداد میں ہوگا۔

امریکی صدر براک اوباما اِن مذاکرات کو سفارت کاری کا آخری موقع قراردے چکے ہیں۔ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ، مصطفیٰ جلیلی نے بھی استنبول مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کو مثبت قرار دیا ہے۔

XS
SM
MD
LG